مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 186
مکتوبات احمد ۱۸۶ جلد اول قیصر روم جو آنجناب کے وقت میں عیسائی بادشاہ اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہو سکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا ۔ سو جو قیصر روم نے کہا یقینا یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی ۔ اگر حضرت مسیح کی نسبت اس وقت کے کسی چھوٹے سے جاگیردار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو جو قیصر روم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا جو آج تک نہایت صحیح تاریخ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہوا موجود ہے تو ہم آپ کو ابھی ہزار روپیہ نقد بطور انعام دیں گے۔ اگر آپ ثابت کر سکیں ۔ اور اگر آپ اس کا ثبوت نہ دے سکیں تو اس ذلیل زندگی سے آپ کے لئے مرنا بہتر ہے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قیصر روم اس گورنمنٹ عالیہ کا ہم مرتبہ تھا بلکہ تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی طاقت کے برابر اور کوئی طاقت دنیا میں موجود نہ تھی ۔ ہماری گورنمنٹ تو اس درجہ تک نہیں پہنچی ۔ پھر جب کہ قیصر با وجود اس شہنشاہی کے آہ کھینچ کر یہ بات کہتا ہے کہ اگر میں اس عالی جناب کی خدمت میں پہنچ سکتا تو آنجناب مقدس کے پاؤں دھویا کرتا دھویا کرتا تو کیا یہ گورنمنٹ اُس سے کم حصہ لیتی ؟ میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ ضرور یہ گورنمنٹ بھی ایسے شہنشاہ کے پاؤں میں گرنا اپنا فخر سمجھتی کیونکہ یہ گورنمنٹ اس آسمانی بادشاہ سے منکر نہیں جس کی طاقتوں کے آگے انسان ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر نہیں اور ہم نے ایک معتبر ذریعے سے سنا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند ادام اللہ اقبالها در حقیقت اسلام سے محبت رکھتی ہے اور اس کے دل میں آنحضرت قالبها اسلام سے محبت رکھتی ہے اور کے دل میں الخضر در سے صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم ہے ۔ چنانچہ ایک ذی علم مسلمان سے وہ اُردو بھی پڑھتی ہے۔ اُن کی ایسی تعریفوں کو سن کر میں نے اسلام کی طرف ایک خاص دعوت سے حضرت ملکہ معظمہ کو مخاطب کیا تھا۔ پس یہ نہایت غلطی ہے کہ آپ لوگ اس مراتب شناس گورنمنٹ کو بھی ایک سفلہ اور کمینہ پادری کی طرح خیال کرتے ہیں ۔ جن کو خدا ملک اور دولت دیتا ہے اُن کو زیر کی اور عقل بھی دیتا ہے۔ ہاں اگر یہ سوال پیش ہو کہ اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی ؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مہربان گورنمنٹ اُس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی تا اس کے دماغ کی اصلاح ہو یا اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت لوگ جمع ہیں ۔