مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 176
مکتوبات احمد ۱۷۶ جلد اول اپنا اقرار تحریری لکھ بھیجیں کہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد یا تو میں اس کے مقابل یہ نشان دکھلاؤں گا اور یا بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا اور اگر ایسا نہ کروں تو خدا تعالیٰ کی لعنت میرے پر ہو۔ پھر اس تحریر کے بعد ہم آپ کی پہلی تحریر کا آپ سے مواخذہ کریں گے۔ اور یہ آپ کا لکھنا کہ ہم کسی کوٹھڑی میں بیٹھ جائیں اور اس میں نشان دکھلاویں گے، یہ قرآن کریم کی تعلیم نہیں اور انجیل میں بھی پائی نہیں جاتی ۔ شاید کوٹھڑیوں کا پرانا خیال ہندوؤں کی تعلیم سے آپ کے دل میں باقی رہا ہو ۔ ہم لوگ اپنے رب کریم کی تعلیم سے قدم باہر نہیں رکھ سکتے ۔ ہمیں یہ حکم ہے کہ میدانوں میں آؤ اور میدانوں میں اپنے دشمنوں کو ملزم کرو۔ سو ہم اپنے روشن چراغ کو کسی کوٹھڑی کے اندر چھپا نہیں سکتے بلکہ میدان کی اس اونچی جگہ پر رکھیں گے جس سے دور دور تک روشنی جائے ۔ اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ ان خطوط کی دوسرے کو خبر نہ ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ قول کسی تعلیم کی بنا پر ہے؟ ہم کسی کام میں مخلوق سے نہیں ڈرتے ۔ اگر یہ ثابت ہو کہ در حقیقت ابن مریم خدا ہے تو سب سے پہلے ہم اس پر ایمان لاویں اور کسی بے عزتی اور مرنے سے نہ ڈریں ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ عاجز انسان ہے اور ہم میں سے ایک ہے جو کسی کی آواز نہیں سن سکتا۔ اور پھر آپ اگر طالب حق ہیں تو اس بحث کو کیوں چھپاتے ہیں ۔ کیا یہ اندیشہ ہے برا ندیشہ ہے کہ اگر پادریوں کو خبر ہو گئی تو آپ نوکری سے برخاست کئے جائیں گے یا کوئی وظیفہ بند کیا جائے گا ؟ چھپ چھپ کر بحث کرنا ایمان داروں کا کام نہیں ۔ اور پھر آپ کا یہ فرمانا کہ ۔ قرآن مسیح کے معجزات کا مصدق ہے، کس قدر آپ کی بے خبری ثابت کرتا ہے۔ قرآن تو یہ کہتا ہے کہ مسیح ایک عاجز بندہ تھا ، کبھی اُس نے خدائی کا دعوی نہ کیا اور اگر خدائی کا دعوی کرتا تو میں اُسے جہنم میں ڈالتا اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملی کیونکہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی ۔ پس قرآن کے رو سے مسیح کے منجی پاک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور پھر قرآن نے ایسے مسیح کی تصدیق کہاں کی جو اپنے تئیں خدا ٹھہراتا ہے؟ بلکہ اس مسیح کی تصدیق کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایک عاجز بندہ کہوا یا ( کہ ) یہ سچ ہے کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم سے، جو خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا ہے، بعض معجزات بھی صادر ہوئے ہیں ۔ مگر کیا