مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 175
مکتوبات احمد ۱۷۵ مکتوب نمبرے ( پادری جوالا سنگھ کے نام ) مشفقی پادری جوالا سنگھ صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول بعد ما وجب! چند روز ہوئے کہ آپ کا ایک طول طویل خط پہنچا مگر میں باعث ا۔ اپنے ضروری کاموں کے جواب نہ لکھ سکا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے کس قدر جلدی اپنے پہلے خط کے مضمون کے مخالف یہ خط لکھ دیا۔ آپ کا خط موجود ہے جس میں آپ نے دعوی کیا تھا کہ جو نشان چاہو، میں دکھلا سکتا ہوں اور خدا وند مسیح میری آواز سنتا ہے ۔ اسی بنا پر میں نے جواب لکھا تھا کہ مجھے ضرور نہیں ۔ کہ میں اپنی طرف سے درخواست کروں کہ ایسا نشان دکھلا ؤ بلکہ واجب ہے کہ ان نشانوں کے موافق دکھلا ؤ جو خود آپ کے خداوند نے آپ کی ایمان داری کی نشانیاں قرار دی ہیں ۔ اور اگر ایسا نشان دکھلا نہ سکو تو دو باتوں میں سے ایک بات ماننی پڑے گی ۔ یا تو یہ کہ آپ ایمان دار نہیں اور یا یہ کہ جس نے ایسی نشانیاں قرار دی ہیں وہ کذاب اور دروغ گو ہے جو جھوٹے وعدوں کی بنا پر اپنے مذہب کو چلانا چاہتا ہے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے میرے اس سوال کا کیا جواب دیا ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ آپ نے اپنے خط میں ایسا ہی لکھا ہے کہ میں جو نشان چاہو دکھلا سکتا ہوں اور خداوند مسیح میری آواز سنتا ہے ۔ اور اگر یہ سچ ہے تو اب آپ کو اس خدا وند مسیح کی نسبت اتنی جلدی کیوں شک پڑ گیا اور آپ کا اپنے دوسرے خط میں یہ جواب لکھنا کہ پہلے آپ نشان دکھلاؤ۔ پھر اس قسم کا نشان میں دکھلاؤں گا۔ یہ صریح وعدہ شکنی ہے ۔ دعوی کر کے پھر اس دعوی سے منہ پھیر لینا ، کیا یہ حق کے طالبوں کی نشانی ہے؟ جو شخص کسی نشان دکھلانے کیلئے توفیق دیا گیا ہے وہ پہلے بھی دکھلا سکتا ہے اور بعد بھی ۔ اچھا ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ نشان دیکھنے کے بعد ہی نشان دکھلا دیں لیکن آپ صاف طور پر