مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 149
مکتوبات احمد ۱۴۹ جلد اول مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اُسی زور وشور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ ، بڑھ کر ۔ مثلاً دیکھئے کہ اس زمانہ بقیه حاشیه از گزشتہ صفحہ ) کہ لندن کے بڑے بڑے شیش اور پادری صاحبان بھی باوجود دیندار کہلانے کے مئے نوشی میں اول درجہ ہوتے ہیں۔ جتنے جلسوں میں مجھ کو بطفیل مسٹر نکلیٹ صاحب شامل ہونے کا اتفاق ہوا ہے ان سب میں ضرور دو چار نو جوان پادری اور ریورنڈ بھی شامل ہوتے دیکھے۔ لندن میں شراب نوشی کو کسی بڑی مد میں شامل نہیں سمجھا گیا اور یہاں تک شراب نوشی کی علانیہ گرم بازاری ہے کہ میں نے بچشم خود ہنگام سیر لندن اکثر انگریزوں کو بازار میں پھرتے دیکھا کہ متوالے ہو رہے ہیں اور ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ لندن میں عورتیں دیکھی جاتی تھیں کہ ہاتھ میں بوتل بیئر پکڑی لڑکھڑاتی چلی جاتی ہیں۔ بیسیوں لوگ شراب سے مدہوش اور متوالے، اچھے بھلے، بھلے مانس مہذب بازاروں کی نالیوں میں گرے ہوئے دیکھے۔ شراب نوشی کے طفیل اور برکت سے لندن میں اس قدر خودکشی کی وارداتیں واقعہ ہوتی رہتی ہیں کہ ہر ایک سال اُن کا ایک مہلک وبا پڑتا ہے ( یکم فروری ۱۸۸۳ء۔رہبر ہند لا ہور ) اسی طرح ایک صاحب نے لندن کی عام زنا کاری اور قریب ستر ستر ہزار کے ہر سال ولد الزنا پیدا ہونا ذکر کر کے وہ باتیں ان لوگوں کی بے حیائی کی لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل سے قلم رکتی ہے۔ بعض نے یہ بھی لکھا ۔ نے یہ بھی لکھا ہے کہ یورپ کے اول درجہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کے اگر دس حصے کئے جائیں تو بلا شبہ نو حصے ان میں سے دہر یہ ہوں گے جو مذہب کی پابندی اور خدائے تعالیٰ کے اقرار اور جزا سزا کے اعتقاد سے فارغ ہو بیٹھے ہیں اور یہ مرض دہریت کا دن بدن یورپ میں بڑھتا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دولت برطانیہ کی کشادہ دلی نے اس کی ترقی سے کچھ بھی کراہت نہیں کی ۔ یہاں تک کہ بعض پکے دہر یہ پارلیمنٹ کی کرسی پر بھی بیٹھ گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی گئی ۔ نامحرم لوگوں کا نو جوان عورتوں کا بوسہ لینا صرف جائز ہی نہیں بلکہ یورپ کی نئی تہذیب میں ایک مستحسن امر قرار دیا گیا ہے ۔ کوئی دعوی سے نہیں کہہ سکتا کہ انگلستان میں کوئی ایسی عورت بھی ہے کہ جس کا عین جوانی کے دنوں میں کسی نامحرم جوان نے بوسہ نہ لیا ہو۔ دنیا پرستی اس قدر ہے کہ آروپ الیگزنڈر صاحب اپنی ایک چٹھی میں ( جو میرے نام بھیجی ہے ) لکھتے ہیں کہ تمام مہذب اور تعلیم یافتہ جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی میری نظر میں ایسا نہیں جس کی نگاہ آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو بلکہ تمام لوگ سر سے پیر تک دنیا پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ اب ان تمام بیانات سے ظاہر ہے کہ مسیح کے قربان ہونے کی وہ تاثیر ہیں جو پادری لوگ ہندوستان میں آ کر سادہ لوحوں کو سناتے ہیں ، سرا سر پادری صاحبوں کا افتراء ہے۔ اور اصل حقیقت یہی ہے کہ کفارہ کے مسئلہ کو قبول کر کے جس طرح عیسائیوں کی طبیعتوں نے پلٹا کھایا ہے وہ یہی ہے کہ شراب خواری بکثرت پھیل گئی ۔ زنا کاری اور بدنظری شیر مادر سمجھی گئی ۔ قمار بازی کی از حد ترقی ہو گئی ۔ خدا تعالیٰ کی عبادت سچے دل سے کرنا اور بکلی رو بجق ہو جانا یہ سب باتیں موقوف ہو گئیں ۔ ہاں انتظامی تہذیب یورپ میں بے شک پائی جاتی ہے۔ یعنی باہم رضامندی کے برخلاف جو گناہ ہیں جیسے سرقہ اور قتل اور زنا بالجبر وغیرہ جن کے ارتکاب سے شاہی قوانین نے بوجہ مصالح ملکی روک دیا ہے ان کا انسداد بے شک ہے مگر ایسے گناہوں کے انسداد کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح کے کفارہ کا اثر ہوا ہے بلکہ رعب قوانین اور سوسائٹی کے دباؤ نے یہ اثر ڈالا ہوا ہے کہ اگر یہ موانع درمیان نہ ہوں تو حضرات مسیحیاں سب کچھ کر گزریں او ریں اور پھر یہ جرائم بھی تو اور ملکوں کی طرح یورپ میں بھی ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ انسداد گلی تو نہیں ۔ منہ