مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 148

مکتوبات احمد ۱۴۸ جلد اول ہونے پر خلقت کی عزت موقوف خیال کی گئی ہے ۔ پھر بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسا عجیب خدا ہے کہ ایک حصہ اس کی عمر کا تو منزه عن الجسم وعن عيوب الجسم میں گزرا ہے اور دوسرا حصہ عمر کا (کسی نامعلوم بدبختی کی وجہ سے ) ہمیشہ کے مجسم اور تحیر کی قید میں اسیر ہو گیا اور گوشت پوست استخوان وغیرہ سب کے سب اس کی روح کے لئے لازمی ہو گئے اور اس تجسم کی وجہ سے ، کہ اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا ، انواع اقسام کے اس کو دکھ اُٹھانے پڑے۔ آخر دکھوں کے غلبہ سے مر گیا اور پھر زندہ ہوا اور اُسی جسم نے پھر آ کر اس کو پکڑ لیا اور ابدی طور پر اسے پکڑے رہے گا۔ کبھی مخلصی نہیں ہو گی ۔اب دیکھو کہ کیا کوئی فطرت صحیحہ اس اعتقاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کوئی پاک کانشنس اس کی شہادت دے سکتا ہے؟ کیا قانون قدرت کا ایک جزو بھی خدائے بے عیب و بے نقص و غیر متغیر کیلئے یہ حوادث و آفات روا رکھ سکتا ہے کہ اس کو ہمیشہ ہر ایک عالم کے پیدا کرنے اور پھر اس کو نجات دینے ر اس کو نجات دینے کیلئے ایک مرتبہ مرنا درکار ہے اور بجز خودکشی اپنے کسی افاضہ خیر کی صفت کو ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ کسی قسم کا اپنی مخلوقات کو دنیا یا آخرت میں آرام پہنچا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کو اپنی رحمت بندوں پر نازل کرنے کیلئے خودکشی کی ضرورت ہے تو اُس سے لازم آتا ہے کہ ہمیشہ اس کو حادثہ موت کا پیش آتا رہے اور پہلے بھی بے شمار موتوں کا مزہ چکھ چکا ہو اور نیز لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کی طرح معطل الصفات ہو ۔ اب خود ہی سوچو کہ کیا ایسا عاجز اور درماندہ خدا ہو سکتا ہے کہ جو بغیر خود کشی کے اپنی مخلوقات کو کبھی اور کسی زمانہ میں کوئی بھلائی پہنچا نہیں سکتا ۔ کیا یہ حالت ضعف اور ناتوانی کی خدائے قادر مطلق کے لائق ہے؟ پھر عیسائیوں کے خدا کی موت کا نتیجہ دیکھئے تو کچھ بھی نہیں ۔ ان کے خدا کی جان گئی مگر شیطان کے وجود اور اس کے کارخانہ کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوا۔ وہی شیطان اور وہی اس کے چیلے جو پہلے تھے اب بھی ہیں ۔ چوری، ڈکیتی ، زنا قتل ، دروغ گوئی ، شراب خواری قمار بازی ، دنیا پرستی ، بے ایمانی ، کفر شرک ، دہر یہ پن اور دوسرے صدہا طرح کے جرائم جو قبل از تازہ اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ تیرہ کروڑ ساٹھ ہزار پاؤنڈ ہر سال سلطنت برطانیہ میں شراب کشی اور شراب نوشی میں خرچ ہوتا ہے ( اور ایک نامہ نگار ایم اے کی تحریر ہے ) کہ شراب کی بدولت لندن میں صد ہا خودکشی کی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور خاص لندن میں شاید منجملہ تمھیں لاکھ آبادی کے دس ہزار آدمی مے نوش نہ ہوں گے ، ورنہ سب مرد اور عورت خوشی اور آزادی سے شراب پیتے اور پلاتے ہیں ۔ اہل لندن کا کوئی ایسا جلسہ اور سوسائٹی اور محفل نہیں ہے کہ جس میں سب سے پہلے برانڈی اور شیری اور لال شراب کا انتظام نہ کیا جاتا ہو ۔ ہر ایک جلسہ کا جزو اعظم شراب کو قرار دیا جاتا ہے اور طرفہ برآں یہ ☆