مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 141
مکتوبات احمد ۱۴۱ جلد اول پیالہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا لیا ہوگا ۔ بلکہ یہ سمجھیں گے کہ جو ان کے اندر چاول اور پانی ہے وہی کھایا پیا ہو گا ۔ نہایت صاف بات پر اعتراض کرنا کوئی دانا مخالف بھی پسند نہیں کرتا ۔ انصاف پسند عیسائیوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ایسے ایسے اعتراض ہم میں سے وہ لوگ کرتے ہیں جو بے خبر یا سخت درجہ کے متعصب ہیں۔ بھلا یہ کیا حق روی ہے کہ اگر کلام الہی میں مجاز یا استعارہ کی صورت پر کچھ وارد ہو تو اس بیان کو حقیقت پر حمل کر کے مورد اعتراض بنایا جائے ۔ اس صورت میں کوئی الہامی کتاب بھی اعتراض سے نہیں بچ سکتی ۔ جہاز میں بیٹھنے والے اور اگنبوٹ پر سوار ہونے والے ہر روز یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ سورج پانی میں سے ہی نکلتا ہے اور پانی میں ہی غروب ہوتا ہے اور صدہا مرتبہ آپس میں جیسا دیکھتے ہیں ، بولتے بھی ہیں کہ وہ نکلا اور وہ غروب ہوا ۔ اب ظاہر ہے کہ اس بول چال کے وقت میں علم ہیئت کے دفتر اُن کے آگے کھولنا اور نظام شمسی کا مسئلہ لے بیٹھنا گویا یہ جواب سننا ہے کہ اے پاگل ! کیا یہ علم تجھے ہی معلوم ہے ۔ ہمیں معلوم نہیں ۔ عیسائی صاحب نے قرآن شریف پر تو اعتراض کیا ۔ مگر انجیل کے وہ مقامات جن پر حقًا و حقیقتاً اعتراض ہوتا ہے بھولے رہے۔ مثلاً بطور نمونہ دیکھو کہ انجیل متی و مرقس میں لکھا ہے کہ مسیح کو اس وقت آسمان سے خلق اللہ کی عدالت کے لئے اُتر تا دیکھو گے جب سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہیں دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے ۔ اب ہیئت کا علم ہی یہ اشکال پیش کرتا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ تمام ستارے زمین پر گریں اور سب ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین کے کسی گوشہ میں جاپڑیں اور بنی آدم کو ان کے گرنے سے کچھ بھی حرج اور تکلیف نہ پہنچے اور سب زندہ اور سلامت رہ جائیں ۔ حالانکہ ایک ستارہ کا گرنا بھی سُکان الأرْضِ کی تباہی کیلئے کافی ہے۔ پھر یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جب ستارے زمین پر گر کر زمین والوں کو صفحہ ہستی سے بے نشان و نابود کریں گے تو مسیح کا یہ قول کہ تم مجھے بادلوں میں آسمان سے اُتر تا دیکھو گے کیونکر درست ہوگا ؟ جب لوگ ہزاروں ستاروں کے نیچے دبے ہوئے مرے پڑے ہوں گے تو مسیح کا اُتر نا کون دیکھے گا ؟ اور زمین جو ستاروں کی کشش سے ثابت و برقرار ہے کیونکر اپنی حالت صحیحہ پر قائم اور ثابت رہے گی اور مسیح کن برگزیدوں کو (جیسا کہ انجیل میں ہے ) ڈور ڈور سٹیبلائے گا اور کن کو سرزنش اور تنبیہ کرے گا کیونکہ ستاروں کا گرنا تو بداہت مستلزم عام فنا اور عام موت بلکہ تختہ زمین کے انقلاب کا موجب ہوگا ۔ اب دیکھئے