مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 140
مکتوبات احمد ۱۴۰ جلد اول اگر کوئی کہے کہ آج رات بادل وغیرہ سے آسمان خوب صاف ہو گیا تھا اور ستارے آسمان کے نقطوں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے تھے تو اس سے یہ جھگڑالے بیٹھیں کہ کیا ستارے نقطوں کی مقدار پر ہیں اور ہیئت کی کتابیں کھول کھول کر پیش کریں تو بلا شبہ یہ حرکت بے خبروں کی سی حرکت ہو گی کیونکہ اس وقت متکلم کی نیت میں واقعی امر کا بیان کرنا مقصود نہیں وہ تو صرف مجازی طور پر جس طرح سار طرح ساری دنیا جہان بولتا ہے بات کر رہا ہے ۔ اے وہ لوگو! جو عشائے ربانی میں مسیح کا لہو پیتے اور گوشت کھاتے ہو۔ کیا ابھی تک تمہیں مجازات اور استعارات کی خبر نہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ ہر ایک ملک کی عام بول چال میں مجازات اور استعارات کے استعمال کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے اور وحی الہی انہیں محاورات واستعارات کو اختیار کرتی ہے جو سادگی سے عوام الناس نے اپنی روزمرہ کی بات چیت اور بول چال میں اختیار کر رکھی ہیں ۔ فلسفہ کی دقیق اصطلاحات کی ہر جگہ اور ہر محل میں پیروی کرنا وحی کی طرز نہیں کیونکہ روئے سخن عوام الناس کی طرف ہے۔ پس ضرور ہے کہ ان کی سمجھ کے موافق اور ان کے محاورات کے لحاظ سے بات کی جائے۔ حقائق و دقائق کا بیان کرنا بجائے خود ہے مگر محاورات کا چھوڑنا اور مجازات اور استعارات عادیہ سے یک لخت کنارہ کش ہونا ایسے شخص کے لئے ہرگز روا نہیں جو عوام الناس سے مذاق پر بات کرنا اس کا فرضِ منصب ہے تا وہ اس کی بات کو سمجھیں اور ان کے دلوں پر اس کا اثر ہو۔ لہذا یہ مسلّم ہے کہ کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جس میں مجازات اور استعارات سے کنارہ کیا گیا ہو یا کنارہ کرنا جائز ہو ۔ کیا کوئی کلام الہی دنیا میں ایسا بھی آیا ہے؟ اگر ہم غور کریں تو ہم خود ہر روزہ بول چال میں صدہا مجازات و استعارات بول جاتے ہیں اور کوئی بھی ان پر اعتراض نہیں کرتا ۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ہلال بال سا باریک ہے اور ستارے نقطے سے ہیں یا چاند بادل کے اندر چھپ گیا اور سورج ابھی تک جو پہر دن چڑھا ہے نیزہ بھر او پر آیا ہے یا ہم نے ایک رکابی پلاؤ کی کھائی یا ایک پیالہ شربت کا پی لیا۔ تو ان سب باتوں سے کسی کے دل میں یہ دھڑ کا شروع نہیں ہوتا کہ ہلال کیونکر بال سا باریک ہو سکتا ہے اور ستارے کس وجہ سے بقدر نقطوں کے ہو سکتے ہیں یا چاند بادل کے اندر کیونکر سما سکتا ہے اور کیا سورج نے باوجود اپنی اس تیز حرکت کے جس سے وہ ہزار ہا کوس ایک دن میں طے کر لیتا ہے۔ ایک پہر میں فقط بقدر نیزہ کے اتنی مسافت طے کرے ہے اور نہ رکابی پلاؤ کی کھانے یا پیالہ شربت کا پینے سے یہ کوئی خیال کر سکتا ہے کہ رکابی اور