مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 110
مکتوبات احمد ۱۱۰ جلد اول مکتوب نمبر ۲ ایک عیسائی کے چند سوالوں کا جواب انجمن حمایت اسلام لاہور کے ذریعہ ایک عیسائی نے کچھ سوال اسلام پر کئے تھے انجمن نے ان سوالات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ امسیح مدظلہ العالی کے پاس بھیج دیا اور آقا و غلام نے ان سوالات کے جواب لکھ کر انجمن کو بھیج دیئے تھے۔ چونکہ وہ ایک عیسائی کے خط کا جواب بذریعہ ایک کھلے خط کے تھا اس لئے انہیں درج کر دیا جاتا ہے ۔ وبالله التوفيق (ایڈیٹر ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بَلْ هُوَ أَيْتُ بَيِّنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ چند روز ہوئے کہ ایک عیسائی صاحب مسمی عبداللہ جیمز نے چند سوال اسلام کی نسبت بطلب جواب انجمن میں ارسال فرمائے تھے چنانچہ اُن کے جواب اس انجمن کے تین معزز و مقتدر معاونین نے تحریر فرمائے ہیں جو بعد مشکوری تمام بصورت رسالہ ہذا شائع کئے جاتے ہیں ۔ سوال نمبر : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نبوت اور قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے پر متشگی ہونا جیسا سورہ بقر اور سورہ انعام میں درج ہے فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِینَ کے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں یقین جانتے تھے کہ وہ پیغمبر خدا نہیں اگر وہ پیغمبر خدا ہوتے یا انہوں نے کبھی بھی کوئی معجزہ کیا ہوتا یا معراج ہوا ہوتا یا جبرئیل علیہ السلام قرآن مجید لائے ہوتے تو وہ کبھی اپنی نبوت پر متشکی نہ ہوتے اُس سے انکار قرآن مجید پر اور اپنی نبوت پر متشکلی ہونا صاف صاف ثابت ہوتا ہے اور نہ وہ رسول اللہ ہیں ۔ پہلے سوال کا جواب : معترض نے پہلے اپنے دعوی کی تائید میں سورہ بقر میں سے ایک آیت پیش کی ہے جس کے پورے پورے لفظ یہ ہیں ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ] ا العنكبوت: ۲۵۰ البقرة: ۱۴۸، الانعام: ۱۱۵ البقرة: ۱۴۸