مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 109
مکتوبات احمد ۱۰۹ جلد اول کے اخیر پر یہ لکھتے ہیں کہ اگر شرائط مذکورہ بالا کو قبول نہیں فرماؤ گے ۔ تو آپ کا حال اور یہ شرائط چند اخبار ہند میں شائع کی جائیں گی ۔ سو مشفق من ! جو کچھ حق حق تھا آپ کی خدمت میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ عاجز آپ کے حالات شائع کرنے کرانے سے ہرگز نہیں ڈرتا ۔ بلکہ خدا جانے آپ کب اور کس وقت اپنی طرف سے اخباروں میں یہ مضمون درج کرائیں گے مگر یہ خاکسار تو آج ہی کی تاریخ میں ایک نقل اس خط کی بعض اخباروں میں درج کرنے کیلئے روانہ کرتا ہے اور آپ کو یہ خوشخبری پہلے سے سنا دیتا ہے تا آپ کی تکلیف کشی کی حاجت نہ رہے اور من بعد جو کچھ آپ کی طرف سے ظہور میں آئے گا وہ بھی بیس روز تک انتظار کر کے چند اخباروں میں چھپوا دیا جائے گا ۔ اور اگر آپ کچھ غیرت کو کام میں لا کر قادیان میں آگئے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ خداوند کریم کس کے ساتھ ہے اور کس کی حمایت اور نصرت کرتا ہے۔ اور پھر اس وقت آپ پر یہ بھی کھل جائے گا کہ کیا سچا اور حقیقی خدا جو خالق و مالک ارض و سما ہے وہ حقیقت میں ابن مریم ہے یا وہ خدا ازلی و ابدی و غیر متغیر وقد وس ، جس پر ہم لوگ ایمان لائے ہیں ۔ سو میں اُسی خدائے کامل اور صادق کی آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تشریف لائیں ضرور آئیں ۔ اگر وہ قسم آپ کے دل پر مؤثر نہیں تو پھر اتمام الزام کی نیت سے آپ کو حضرت مسیح کی قسم ہے کہ آپ آنے میں ذرا توقف نہ کریں تا حق و باطل میں جو فرق ہے وہ آپ پر کھل جائے اور جو صادقوں اور کا ذبوں میں ما بہ الامتیاز ہے وہ آپ پر روشن ہو جائے ۔ والسلام علی من اتبع الہدی ۔ بوقت صبح شود همچو روز معلومت که با که باخته عشق در شب دیجور من ایستاده ام اینک تو ہم بیا بشتاب که تا سیاه شود روئے کاذب مغرور ۔ الحکم ۲۴ جون ۱۹۰۱ ء صفحه ۳ تا ۶ الراقم خاکسار آپ کا خیر خواہ مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ☆