لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 32

لُجَّةُ النُّور ۳۲ اردو ترجمہ مَسرَى الفَجَرة ۔ لا يَسُرُون بدکاروں کا راستہ بھی نہیں چھوڑتے اور وہ صرف إلا المسرى الذي يخالف اس راستے پر چلتے ہیں جو تقویٰ کی راہوں کے طرق الورع، ولو نُدّد بأنه من خلاف ہے۔ خواہ اُن پر واضح کر دیا جائے کہ یہ امر مناهي الشرع ۔ يحسبون بَولَ منهيات شرع میں سے ہے۔ وہ ابلیس کے إبليس مُزْنةً ۔ وروث النعم پیشاب کو موسلا دھار بارش خیال کرتے ہیں اور نعمة ۔ بلغ الزمان إلى الانقطاع چوپایوں کے گوبر کو نعمت ۔ زمانہ ختم ہونے کو ہے وما انقطعت مادة زيغهم لیکن ان کی کبھی کا مادہ جو ان میں ایام رضاعت سے الذي دخلتهم من الرضاع داخل ہو چکا ہے ختم ہونے کو نہیں آتا۔ جو نہی تعویذ أَصْبَتهم الذمائم مُذْ مِيطت وغیرہ اُن سے دور کیے گئے بدیوں نے ان کو آ لیا۔ عنهم التمائم، واستسنوا اور انہوں نے اس دنیا کی زینت اور اس کی قیمت زينة الدنيا وقيمتها۔ وحسبوا کو اعلیٰ سمجھا اور اس کے بے آب بادل کو بارش جهامَها صَيّبًا واسْتَغْزَروا برسانے والا خیال کیا اور اس کی ہلکی بارش کو بھی ديمتها، واستأنسوا بجمالها۔ موسلا دھار خیال کیا۔ انہوں نے اس دنیا کی و ولعوا ببغالها وجمالها، خوبصورتی سے محبت کی اور اس کے خچروں اور وخدعهم حلاوة عشرتها۔ اونٹوں پر حریص ہو گئے، اس دنیا کی شیریں وتجمل قشرتها ، و طراوة معاشرت ، اس کی بیرونی خوبصورتی ، اس کی بارش بشرتها ، وتألق بشرتها ، کی تازگی اور اس کے چہرے کی ظاہری چمک دمک و ما أمعنوا النظر في توشمها، نے ان کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے دنیا کو شناخت وما سرحوا الطرف فی کرنے کے لئے نظر عمیق سے کام نہیں لیا اور اس ميسمها ، وهنأوا نفوسهم كے چہرہ کو پہچاننے کے لئے اپنی نگاہیں نہ بالزور، وابتدروا استلام دوڑائیں ۔ انہوں نے جھوٹ سے اپنے نفسوں کو يد المكار الغرور ۔ جهلوا مبارکباد دی اور مکار دھوکہ باز کا ہاتھ چومنے میں