لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 120

لُجَّةُ النُّور ۱۲۰ اردو ترجمہ ۱۳ وإني ما آمنت بالرسل وتعافیت جو میں نے کر لیا ہے اور میں رسولوں پر ایمان بھی فلم ما عذبت إن أجرمت نہیں لایا بلکہ کراہت کرتا ہوں ۔ پس اگر میں نے أو جنيت ومن الجرائم التى گناہ یا جرم کا ارتکاب کیا ہے تو کیوں مجھے عذاب كثرت في المسلمين كبر نہیں دیا جاتا۔ وہ جرائم جن کی مسلمانوں میں کثرت ونخوة كالشياطين، فمن کان ہے اُن میں سے ایک شیاطین جیسا تکبر اور نخوت يحسب نفسه من العلماء يُرِی ہے، پس جو کوئی اپنے آپ کو علماء میں سے خیال کرتا مزایا علمه بأنواع الخيلاء ، ہے وہ اپنے علم کی فضیلتوں کو مختلف قسم کے تکبر اور خود ويذكر الآخرين كالمحقرین پسندی سے ظاہر کرتا ہے اور دوسروں کا حقیروں اور المزدرين۔ ويتوفّر غضبًا إذا قيل گھٹیا لوگوں کی طرح ذکر کرتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ وہ إنهم من العالمين، ويشمخ بأنفہ بھی علماء میں سے ہیں تو غصے سے بھڑک اٹھتا ہے اور أنفا عند ذكر الغير، ويقول غیر کے ذکر کے وقت اپنی ناک بھوں چڑھاتا ہے، دَعُوا ذكره فإنه كالحمار أو اور کہتا ہے اُس کے ذکر کو دفع کرو وہ تو گدھے یا گورخر الغير۔ ثم يحمد نفسه صَلَفًا کی طرح ہے۔ پھر متکبروں کی طرح لاف زنی كالمستكبرين، ليعتلق به الناس کرتے ہوئے خود اپنے نفس کی تعریف کرتا ہے اعتلاق العاشقين۔ ويتقلب فی تا کہ لوگ اس سے عاشقوں کی طرح چمٹ جائیں۔ أقاليب، ويخبط في أساليب، وہ طرح طرح کے سانچوں میں ڈھلتا ہے اور مختلف فيدعى تارة أنه من الأدباء ، راہوں میں بھٹکتا ہے کبھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ادباء ولا يبلغ شأنه أحد من البلغاء ، میں سے ہے اور اہل بلاغت میں سے کوئی اُس کی ويسأل الأقران كالصبيان عن شان کو نہیں پہنچ سکتا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے بچوں کی التراكيب النحوية والصيغة، طرح نحو کی تراکیب اور صیغوں کے بارے میں ويـقـطـع عـلـى الـنـاس كلامهم سوال پوچھتا ہے۔ ہے اور ۔ اور غلطی پکڑنے کے کے۔ لئے لوگوں للتخطية، ويبدى ناجذیہ علی کی قطع کلامی کرتا ہے ایک لفظ (کے اختلاف) پر