لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 119

لُجَّةُ النُّور ۱۱۹ اردو ترجمہ هذا حاله وأخوه المترف اور سیاہ زلفیں سفید نہیں ہوتیں۔ یہ اس کا حال ہے يطمر طمور الغزالة، وينوم جبکہ ناز و نعم میں پلا اس کا بھائی ہرن کی طرح إلى طلوع الغزالة۔ لا تُرفع چھلانگیں لگا رہا ہے اور آفتاب کے طلوع ہونے يده للصلات، ولا يجنح تک سوتا رہتا ہے۔ اُس کا ہاتھ عطیہ بخشنے کے لئے صلبه للصلوة ۔ يسعى نہیں اٹھتا ۔ اور نہ اُس کی کمر نماز کے لئے جھکتی ہے كالبابورة في غُلوائه ، ويستر اور اپنی سرکشیوں میں ریل کی طرح دوڑتا ہے اور جهلاته بثوب خيلائه اپنی جہالتوں کی اپنے تکبر کے لباس سے ستر پوشی لا يعلم كيف تستطير کرتا ہے۔ اس کو یہ علم بھی نہیں کہ وطن اور بیٹے سے صدوعُ الكبد عند غلبة ملنے کے شوق کے غلبہ کے وقت جگر کے ٹکڑے کس الحنين إلى الوطن والولد طرح پارہ پارہ ہو جاتے ہیں ۔ وہ دولت اپنی يُحرز العين في صُرته، تھیلی میں جمع کرتا رہتا ہے اور اُسی سے اُس کے وبها يبرق أسارير مسرّته۔ پُر مسرت چہرے کے خط و خال تمتماتے ہیں اور وكذالك يُسنّى ابتلاء اِس طرح اُس کی کامیابی بطور آزمائش مہیا ہو جاتی نجاحه ويبسط جناحه ہے اور اُس کے باز و فراخ کر دیئے جاتے ہیں۔ پس فعمی علیه طریق الاهتداء ، اُس پر ہدایت پانے کی راہ پوشیدہ ہو جاتی ہے اور اُس ويجره شقوته إلى العماية کی بد بختی اُسے بے راہ روی اور گمراہی کی طرف لے والعمياء ، ويظن أن دولته جاتی ہے وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اُس کی دولت اُس کے من علمه و دهائه لا من علم اور اُس کی ہوشیاری کی وجہ سے ہے نہ کہ ظاہری و قسام آلائه و نعمائه باطنی نعمتیں تقسیم کرنے والے خدا کی طرف سے۔ و ويمدح عقله ويقول إنی اپنی عقل کی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے به حزتُ ما اشتھیت جس چیز کی خواہش کی اسی کے ذریعہ اُسے حاصل کر وما حوى إخـوانـي مـا حویت لیا، اور میرے بھائیوں نے وہ ( مال ) جمع نہیں کیا