لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 114

لُجَّةُ النُّور ۱۱۴ اردو ترجمہ كلفوا بجوار زانيات، وأُولعوا وہ زانی لڑکیوں کے دلدادہ ہیں اور گانوں اور گانے بأغاني ومغنيات۔ وتری والیوں پر فریفتہ ہو گئے ہیں۔ تو دیکھتا ہے کہ مساجد المساجد خالية من ذاکرین ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں وذاكرات۔ وطلبوا في وجوه سے خالی ہیں۔ وہ نوخیز لڑکوں کے چہروں میں الغلمان لذة وسرورًا، وتركوا لذت و سرور تلاش کرتے ہیں۔ اور ہمارے رب کو ربنا مهجورا ۔ يتكلفون انہوں نے مہجور چھوڑ دیا ہے۔ وہ اس حقیر دنیا اور الكلف للدنيا الدنية وأمور الرياء ریا کاری کے امور کے لئے مشقتیں برداشت کرتے و يُسنّى لهم بذل الأموال قَصْدَ ہیں۔ اپنی خواہشات کے قصد نے مال خرچ کرنا ان الأهواء ۔ وتجد كثيرا منهم کے لئے آسان کر دیا ہے۔ تو اُن میں سے بہتوں کو ضاقت صدورهم و كثر كبرهم پائے گا کہ اُن کے سینے تنگ ہو گئے ہیں۔ اور اُن کا و غرورهم ۔ يضربون نساء هم کبر اور غرور بڑھ گیا ہے وہ اپنی بیویوں اور خادموں کو وحفدتهم على أدنى ذنب من زیادہ نمک ہونے اور آٹے کے پتلے ہونے جیسے التمليح والإمراخ، وكادوا أن معمولی قصوروں پر مارتے ہیں۔ قریب ہے کہ وہ يشد خوهم على أن لم يأتوا اُن کے سر پھوڑ دیں محض اس بات پر کہ وہ کھانے عند الطعام بالنقاخ، وربما کے وقت ٹھنڈا شیریں پانی کیوں نہیں لائے ۔ اور بسا يلطمونهم على أن المباءة اوقات انہیں صرف اس بات پر طمانچے مارتے ہیں ما كسحت أو الزرابي ما بنت کہ (ان کی) جائے سکونت پر جھاڑو نہیں دیا گیا یا أو النمارق ما صُفّفت قالین نہیں بچھائے گئے۔ یا تکیے صف بہ صف نہیں و يكلحون ويعبسون ويصلقون رکھے گئے۔ اور وہ تیوری چڑھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ويـصـرخـون كـأنهم يموتون منہ بسورے ہوئے دانت پیستے ہیں اور ایسے چلاتے ويرفعون الأصوات ومن اور چیختے ہیں گویا کہ وہ مرا چاہتے ہیں۔ وہ آوازیں الغضب يرتعدون ويدعون بلند کرتے ہیں اور غصہ سے کانپنے لگتے ہیں۔ وہ