The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 566

The Light of Truth — Page 68

68 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE قوم متنصرين. فمنشاء تحريراته هذه الخطرات المنسوجات لا غيرها، وما اختار هذا إلا لعدم علمه بمراحم الدولة علينا وحقوق مخزونة لديها ولدينا. وقد تَهادَينا بأمور تزيد الوفاق، وتخرج من القلوب النفاق. فليس على سمائنا الغمام ليعزوه إلى ظلام النمام، وليس فى كنانتنا مرماة واحدة لنخاف المناضلين. وما رأى هذا المتجنّى الغبي أن الدولة البرطانية فهيمة مدبّرة تعرف كل كلمة وما تحتها، وتفهم كل افتراء وأهله، ولا تتبع رأى كل قَتَاتٍ ضَنين. فما كان لأحد أن يدلى بغرور هذه الدولة أو يخدعها، فإنها تعرف الخائن القتات، والدُّخْلُلَ الكاذب المقتات، ولا تشتعل كالمخدوعين، بل تهجم عقابها على المفترين، وتحملق إلى الذين يسطون على الضعفاء ولا تترُكن سِيَرَ الظالمين. فالحجة التي تبرئنا من وشاية هذا الرجل وتُنقذنا من إبرامه وتُبعد عليه نيل مرامه، فهو ما ذكرنا آنفا. والله يعلم أنا نحن براء من هذه البهتانات، بل نحن مستحقون أن تُسبغ الدولة علينا من أعظم العطيات، وتجزى جزاء خيرا بمزاياها وتعيننا عند الضرورات، وتحسبنا من المحسنين. هذا هو الأمر الذي ليس فيه تفاوت مثقال ذرة ويعلمه العالمون. ولكن ليس عندنا علاج الواشى الوقيح والزُّمَّحِ المضيح، وقد قلنا كل ما هو مدخرة الكاذبين. اصل موجب اس کی تحریرات کا یہ دلی منصوبے ہیں کوئی اور سبب نہیں اور اس نے اس راہ کو محض اس سبب سے اختیار کیا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ اس گورنمنٹ کی کیسی مہربانیاں ہم پر ہیں اور کیسے باہمی حق ان کے پاس اور ہمارے پاس ہیں اور ہم نے ایسے امور ایک دوسرے کو بطور ہدیہ دیئے ہیں جو موافقت کو زیادہ کرتے ہیں اور نفاق کو دور کرتے ہیں سو ہمارے آسمان پر کوئی بادل نہیں تا کوئی نکتہ چین اس کو اندھیرے کی طرف منسوب کرے اور ہمارے ترکش میں صرف ایک ہی تیر نہیں تاہم مخالف تیر اندازوں سے ڈریں۔ اور اس خطا جو غبی نے یہ بھی نہ سوچا کہ سرکار انگریزی ایک فہیم اور مدبر گور نمنٹ ہے ایسی کہ ہر یک کلمہ کو اور جو کچھ اس کے نیچے ہے پہچان لیتی ہے اور ہر یک افترا اور اس کے اہل کو سمجھ جاتی ہے اور ہر یک نکتہ چین بخیل کی رائے کے پیچھے نہیں لگ جاتی پس کوئی شخص اس گورنمنٹ کو دھوکا اور فریب نہیں دے سکتا کیونکہ وہ خیانت پیشہ نکتہ چین کو اور ایسے کو جو دخل بے جا دینے والا اور جھوٹا اور جھوٹی مخبری کرنے والا ہو خوب پہچانتی ہے اور دھوکا کھانے والوں کی طرح نہیں بھڑکتی بلکہ اس کی عقوبت مفتری کو یکدفعہ پکڑ لیتی ہے اور ان کی نظر عتاب ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ضعیفوں پر حملہ کرتے ہیں اور ظالموں کی خصلت کو نہیں چھوڑتے۔ پس وہ حجت جو اس شخص کی مخالفانہ مخبری سے ہم کو بری کرتی اور اس کی مضبوطی فریب سے ہم کو نجات دیتی ہے اور اس کو اپنے مقصود سے ناکام رکھتی ہے سو وہی دلائل بریت ہیں جو ہم ابھی لکھ چکے ہیں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے جو ہم ان بیجا الزاموں سے بری ہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں جو سرکار انگریزی اپنے کامل انعام سے ہم کو متمتع فرمادے اور ہمارے نیک کام کی جزا بڑھ کر دیوے اور ضرورتوں کے وقت ہماری مدد کرے اور ہمیں اپنے احسان کرنے والوں میں سے خیال کرے۔ یہ وہ بات ہے جس میں ایک ذرہ کے برابر فرق نہیں اور جاننے والے اس کو جانتے ہیں مگر ہمارے پاس ایسے شخص کا علاج نہیں جو نکتہ چین بے حیا اور سفلہ اور عیب ڈھونڈھنے والا ہو اور ہم وہ سب باتیں کہہ چکے ہیں جن میں ان جھوٹوں کار د ہے۔ اور جو اس شخص نے شیخ بٹالوی کی تعریف لکھی ہے یعنی محمد حسین صاحب رسالہ اشاعۃ السنۃ کی اور کہا کہ یہ