The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 566

The Light of Truth — Page 66

66 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE إلى الباطل، وتركوا أصحاب اليمين. لم لا ينهاهم أكابرهم عن المنكرات، ولم لا يمنعونهم من نقل الخطوات إلى خطط الخطيات، ولم يتركونهم فارغين؟ فعندى من الواجبات أن تكتب عليهم خدمات تناسب قوم كل أحد وحرفة كل أحد . فليعط للنجار فأسًا، وللطارق النقاش منسجا حرفاسا، وللحجام مشراطا وموسى، وللعصار معصرة عظمى، لكى يشتغل كل أحد منهم بما هو أهله، ويمتنع من كل فضول ولغو وتأثيم، ولكى يستريح الخلق من شرهم، وعباد الله من أذاهم، وفي ذلك نفع عظيم لأكابرهم المغبونين. وأما هذا الرجل الذي صال على، فما صال إلا لحاجة ألجأته إلى ذلك، وهو أنه عجز عن جواب سؤالات قد أوردناها عليه وعلى رفقائه فى مباحثة كانت بيننا وبينهم، وتبين أنهم على الباطل وفى ضلال مبين. فتندم غاية التندّم، واضطر كمذبوح واعتاص الأمر عليه، فما رأى طريقا يُرضى به قومه إلا طريق البهتانات، فاختاره ليستر عُواره بتلك المفتريات. فأُشرِبَ في قلبه أن يستمد بوشائه من أهل الحكومة والولاية، ويريش بكلمات الشر نَبلَ السعاية لعلهم يصلبونني أو يقتلونني، ويعلو أمر جھک گئے اور داہنے ہاتھ کی طرف والوں کو چھوڑ دیا۔ ان کے اکابر کیوں ان کو بُری باتوں سے منع نہیں کرتے اور کیوں ان کو گناہوں کی طرف قدم اٹھانے سے منع نہیں فرماتے اور کیوں ان کو فارغ بٹھا رکھا ہے۔ سو میرے نزدیک واجبات سے ہے کہ کچھ ایسی خدمات ان پر مقرر کی جائیں جو قوم اور پیشہ کے لحاظ سے ان کے مناسب حال ہوں پس چاہیئے کہ نجار کو تو تیشہ دیا جائے اور دُبننے کے لئے ایک مضبوط دھنگی (پنجن) اور نائی کو نشتر اور استرا اور تیلی کو ایک بڑا سا کوہلو سپرد ہو تا کہ ہر یک شخص ان میں سے اس کام میں مشغول ہو جائے جس کا وہ اہل ہے اور تاکہ اس انتظام سے ہر ایک ان میں سے فضول گوئی اور بے ہودہ اور گناہ کی باتوں سے رک جائے تاکہ خلق اللہ اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو ان کی شرارت اور ایذا سے راحت حاصل ہو اور اس انتظام میں ان کے اکابر کو جو زیاں رسیدہ ہیں بہت ہی نفع ہے۔ مخص اور یہ آدمی جس نے مجھ پر حملہ کیا سو اس نے صرف اس اضطرار کی وجہ سے حملہ کیا ہے جو اس کو پیش آئے اور وہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہو گیا جو ہم نے ایک مباحثہ میں جو ان میں اور ہم میں تھا اس پر اور اس کے رفیقوں پر کئے تھے اور کھل گیا کہ وہ لوگ باطل اور کھلی کھلی گمراہی میں ہیں۔ پس یہ شخص نہایت ہی شرمندہ ہوا اور ایسا بے قرار ہوا جیسا کہ کوئی ذبح کیا جاتا ہے اور اس پر کام مشکل ہو گیا پس اس کو کوئی ایسا راہ نہ مل سکا جس سے وہ اپنی قوم کو راضی کر سکتا مگر ایک بہتان کا طریق کھلا تھا سو اس کو اس نے اختیار کر لیا تا وہ ان مفتریات سے اپنی پردہ پوشی کرے سو اس کے دل میں یہ خیال رچ گیا کہ سرکار انگریزی کے حکام اور اہل حکومت سے بذریعہ اپنی جھوٹی مخبری کے اس کام میں مدد لیوے اور اپنی سخن چینی کے تیر سے شرارت کی باتوں کو پر لگاوے تاکہ حکام مجھ کو پھانسی دے دیں یا قتل کر دیں اور اس طرح سے یہ کرشان لوگ غالب آ جائیں۔ سو