The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 566

The Light of Truth — Page 64

64 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الدنيا ولا فكر الآخرة، وما أخرجهم من الإسلام إلا أسباب معدودة، وأكبرها كثرة الحمق وقلة التدبّر . ثم مع ذلك سبب ارتداد الأكثر منهم اضطرام الأحشاء والاضطرار إلى العشاء، وشُح مطائب الطعام، وحرص كأس المُدام، والرغبة فى الغيد والتوق إلى الأغاريد، والميل إلى مغاداة الغادات ومقاناة القينات وغيرها من الهنات، فسقطوا لأجل ذلك على الدنيا بالقلب الشحيح، كالذباب على المخاط والقيح، وكانوا من العقبى غافلين ما بقى لهم شغل من غير شرب الصهباء، وإسبال ثياب الخيلاء، وأكل الخبز السميذ، ومَلْءِ قرب البطون بكأس النبيذ، وتوهين المقدسين. أرى المدام سكنهم، والغبوق خدينهم، والبطن دينهم، ونسوا عظمة الله مجترئين. لا تتحامى لسنُهم من الزور والدجل والمين، ولا يتقون دَرَنَ الكذب والشين. هذه أعمالهم ثم يسبّون المعصومين نسوا الآخرة، وفرغوا من همّها بما غرَّهم الكَفَّارة، وغلبت عليهم النفس الأمارة. يأكلون ما يشاءون، ويقولون ما يريدون، لا يعرفون أوصاف الإنصاف، ويرتضعون أخلاف الخلاف. وما حملهم على ذلك إلا النفس التي كانت خليع الرسن، مديد الوسن، فمالوا عن الحق کوئی سرا تیار کی جاتی تو بہت ہی مناسب اور بہتر اور خلق اللہ کے نفع کا موجب تھا بہ نسبت اس کے کہ اس طائفہ شیطان کے او تار پر یہ مال خرچ ہو تا ایسا طائفہ جس نے کھانے چبانے میں لوگوں کے نفیس اور عمدہ مالوں کو نا حق کھو دیا اور ان کو دنیا اور آخرت کا فکر چھو بھی نہیں گیا اور ان کے دین اسلام سے مرتد ہونے کا بڑا باعث کثرت حمق اور قلت تدبر ہے اور پھر باوجود اس کے ان میں اکثر مرتد ہونے کا سبب بھوک کی آگ کا بھڑک اٹھنا ہے اور رات کی روٹی کے لئے بے قرار ہونا اور اچھے اچھے کھانوں کا لالچ اور شراب کی حرص اور نازک اندام عورتوں کی رغبت اور سرود کے شوق اور لطیف بدن عورتوں کو دیکھنے کے لئے صبح کو جانا اور گانے بجانے والی عورتوں سے میل ملاپ رکھنا اور ایسا ہی اور بری خصلتیں پس وہ اسی سبب سے لالچ سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ دنیا پر گرے جیسے مکھی پیپ اور رینٹھ پر گرتی ہے اور عاقبت سے بالکل غافل رہے اور ان کو بجز اس کے اور کوئی شغل نہیں رہا کہ شراب پیویں اور ناز نخرے کے ساتھ لٹکتے ہوئے کپڑے پہنیں اور میدے کی روٹی کھاویں اور پیٹ کی مشک کو شراب کے پیالوں کے ساتھ بھریں اور پاک لوگوں کی توہین کرتے رہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ دوست آرام دہ ان کا خمر ہے اور آدھی رات کی شراب ان کا دلی اور اندرونی یار ہے اور پیٹ ان کا دین ہے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی عظمتوں کو دلیری سے بھلا دیا ہے۔ ان کی زبانیں جھوٹ اور دجالیت اور دروغگوئی سے پر ہیز نہیں کرتیں اور نہ درونگوئی کی میل سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کے عمل ہیں پھر معصوموں کو گالیاں نکالتے ہیں آخرت کو بھلا دیا اور کفارہ کے دھوکہ سے معاد کی فکر سے فارغ ہو بیٹھے اور نفس امارہ ان پر غالب آگیا جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں اور جو دل میں آتا ہے بول اٹھتے ہیں انصاف کی صفتوں سے ناشناسا اور مخالفت کی چھاتیوں کا دودھ پی رہے ہیں اور اس مخالفت پر کسی اور بات نے ان کو آمادہ نہیں کیا بجز ان کے نفس کے جو کھلی رسی والا اور دراز خواب والا ہے سو وہ حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف