The Light of Truth — Page 62
62 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE قوم ضعفاء معسرين، ولا يفضل عنهم ما يصرفون إلى غيرهم، فمن أين وكيف يُفعِمون وعاء البطالين؟ فلما رأوا أن أهل الإسلام لا يحملون أثقالهم ولا يبالون إقلالهم، توجهوا إلى قسيسين مصطادين. فاجتمعوا في الكنائس من داء الذئب والخوى المذيب طمعًا في أموالهم، وطموحا إلى إقبالهم، وأخذوا يسرونهم بإغلاظ الكلام في شأن خير الأنام، ويُطرِفون في التوهينات واختراع الاعتراضات، ليروهم أنهم متنفرين من الإسلام وفى التنصر متشددين، وليحصل لهم قربتهم بوسيلتها وليقضوا أوطارهم بتوسطها ويكونوا في أعينهم صالحين متنصّلين. وكذلك صابت سهامهم وحصل مرامهم، فترى كيف اصطادوا أكابرهم ونهبوا أموالهم وختلوا جهالهم، فأحبوهم وأحسنوا إليهم كأنهم فوج المتقين. وفرضوا لهم فى صدقاتهم حصّةً وجعلوا لهم وظائف فيأخذ كل أحد منها ويأكلها بطالا ضُجَعَةً نُومةً، وتراهم كيف يتبخترون بالارتداد كتبختر المطلق من الإسار، ويهتزون هزّة الموسر بعد الإعسار، ويتلفون أموال الناس متنعمين فليت شعرى لو بُنِيَتْ من هذه الأموال التي تُسكب كالماء في تنعمات السفهاء جسر للعابرين أو خان للمسافرين، لكان خيرًا وأولى وأنفع للناس من أن يُبذل على هذه الطائفة مظاهر الخنّاس التى أتلفت نفائس أموال الناس فى الخصم والقضم، وما مسهم فكر سمجھ کر آرام کرنے دیں اور تمام خرچ ان کے اپنے ذمہ کر لیں اور ان کو صرف کھانے پینے کے لئے فارغ چھوڑ دیں کیونکہ مسلمان ایک ناتوان اور تنگدست قوم ہے اور ان کے مالوں میں اس قدر بچت نہیں ہوتی جو کسی دوسرے کو دیں پھر کہاں سے اور کیونکر نکے لوگوں کے برتن بھر سکیں سومر تد عیسائیوں نے جب دیکھا کہ مسلمان ان کے بوجھوں کو اٹھا نہیں سکتے اور فقر وفاقہ کی پروا نہیں رکھتے تو شکار ڈھونڈھتے ہوئے پادریوں کی طرف دوڑے۔ سو گر جاؤں میں بھوک کی وجہ سے جو گلاتی جاتی تھی جمع ہوئے اور یہ سب کچھ ان کے مالوں کے لالچ اور ان کے اقبال پر نظر دوڑانے سے ظہور میں آیا اور پھر انہوں نے شروع کیا کہ آنحضرت خیر الانام کے حق میں سخت اور نئے نئے درشت کلمے استعمال کر کے پادریوں کو خوش کرتے اور نئی نئی قسم کی اہانتیں اور اختراع اور اعتراض ان کے لئے بناتے تاکہ ان کو دکھلاویں کہ وہ اسلام سے متنفر اور عیسائی مذہب میں بڑے پکے ہیں اور تاکہ ان بے ادبی کی باتوں سے ان کے خاص مصاحب بن جائیں اور ان کے توسط سے اپنی حاجتیں پوری کریں اور ان کی آنکھوں میں پرہیز گار اور صالح دکھائی دیں اسی طرح ان مرتدوں کے تیر نشانوں پر لگے اور ان کی مرادیں بر آئیں پس تو دیکھتا ہے کہ کیونکر انہوں نے اپنے بڑوں کو شکار کیا اور کیونکر ان کے جاہلوں کو دھوکے دیئے سو وہ ان سے پیار کرنے لگے اور ان پر احسان کئے گویا یہ ایک پرہیز گاروں کی فوج ہے۔ اور ان کے لئے اپنے خیراتی مالوں میں حصے ٹھہر ادیئے اور وظیفے مقرر کر دیئے پس ہر ایک کرششان ان میں سے لیتا ہے اور محض نکما لیٹے سوتے اس مال کو کھاتا ہے اور تو دیکھتا ہے کہ کیونکر مرتد ہونے کی حالت میں وہ لٹکتے پھرتے ہیں جیسے قیدی قید چھوڑ کر لٹکتا ہوا چلتا ہے اور ایسے خوشی کر رہے ہیں جیسے وہ شخص خوش ہوتا ہے جو تنگی کے بعد فراخی دیکھتا ہے اور لوگوں کا مال عیاشی میں اڑا رہے ہیں۔ کاش اس مال سے جو نا پاک دلوں کی عیاشی کے لئے پانی کی طرح بہایا جاتا ہے کوئی پل دریا کے عبور کرنے والوں کے لئے بنایا جاتا یا مسافروں کے لئے