The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 566

The Light of Truth — Page 60

60 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وأما الذين دخلوا في الملة النصرانية تاركين دين الإسلام، وباعدين عن ظل خير الأنام، فما نجدهم قائمين لخدمة الدولة والمخلصين لهذه الحضرة، بل نجدهم مداهنين منافقين، وما دخلوا أكثرهم في دينهم إلا ليستطبّوا لوجع الجوع، وليُفعموا كأس الولوع، فسينتشرون ذات بكرة إذا رأوا أنهم أخرجوا من روض الرتوع، ويعجبون الناس من وشك الرجوع. ونحن نراهم مذ أعوام مناجين للإخفار كلئام، ولا نجد فيهم شيئا من الأوصاف إلا عشق الصعف والصحاف وإلف الجيفة كالغُداف، وما نجدهم إلا مترفين، وسيعلم الدولة البريطانية كم منهم من المخلصين الصادقين. ووالله إنا نشاهد بأعيننا أن أكثرهم قد خرجوا من الإسلام ودخلوا في النصارى من التكاليف النفسانية وأثقال الدين ولَهَب الأجوفين، وكان المسلمون مطلعين على عَرِّهم وشَرِّهم، فما بالوهم لاطلاعهم على سبب مفرهم، فتوجهت هذه الطائفة إلى قسيسين بما رأوا بصيص إقبالهم وزينة دنياهم وكثرة مالهم، ومع ذلك وجدوهم غافلين من مقاصدهم كحمقى، وحسبوا الأديار بقعة النوكى، فتمايلوا عليها خادعين. وما كان لمسلمى ديارنا أن يربّوا تلك الكسالى، ويكفلوهم فى مآكلهم ومشار بهم ولبوسهم ويتركوهم معذورين کہ سرکار انگریزی کی کچھ خدمت کرتے ہوں یا مخلص ہوں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہ مداہنہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور اکثر لوگ دین عیسائی میں محض اسی لئے داخل ہوئے ہیں تا اپنی درد گرسنگی کا علاج کریں اور اپنے حرص کے پیالوں کو لبالب بھر دیں سو کسی صبح یہ لوگ تتر بتر ہو جائیں گے جبکہ دیکھیں گے چراگاہ سے نکالے گئے اور لوگوں کو اپنے جلد پھرنے سے تعجب میں ڈالیں گے اور ہم تو ان کو کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا مذہبی قول واقرار توڑنے کو تیار ہیں اور ہم ان میں بجز اس کے کوئی خوبی نہیں پاتے کہ وہ شراب اور خوش مزہ کھانوں کے جو پیالوں میں بھرے ہوئے ہوں عاشق ہیں اور دنیا کے مردار کے ایسے دوست ہیں جیسے کوا۔ اور ہم ان کو جانتے ہیں کہ دنیاوی نعمتوں نے ان کو بے راہ کر دیا ہے اور عنقریب گورنمنٹ انگریزی جان لے گی کہ کس قدر ان میں مخلص صادق ہیں اور بخدا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اکثر ان میں سے محض تکالیف نفسانیہ اور قرض کے بوجھ اور پیٹ اور عضو نہانی کی سوزشوں کی وجہ سے اسلام سے خارج اور نصاریٰ میں داخل ہوئے اور مسلمان لوگ ان کی حرص کی خارش اور ان کی شرارتوں سے مطلع تھے پس انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی سو یہ لوگ پادریوں کی طرف متوجہ ہوئے کیونکہ انہوں نے ان کے اقبال کی چمک دیکھی اور ان کی زینت دنیا اور کثرت مال کا ملاحظہ کیا اور با ایں ہمہ ان کو اپنے اصلی مقاصد سے غافل پایا ایسا کہ جیسے احمق ہوتے ہیں اور انہوں نے گر جاؤں کو ایک بے وقوف لوگوں کا مکان سمجھ لیا سو وہ ان کی طرف دھو کہ دینے کی نیت سے جھک پڑے اور ہمارے ملک کے مسلمان ایسے سست اور کاہل لوگوں کی پرورش نہیں کر سکتے تھے اور یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ان کے کھانے پینے اور پہننے کے مصارف اپنے ذمہ اٹھا لیں اور ان کو حملد ار عورتوں کی طرح معذور