The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 566

The Light of Truth — Page 58

58 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE من المرتابين والمعترضين على إن كان من الصادقين. حاشا ما كانت فائدة من غير إظهار الحق. بل إني سمعت أن أقوالى هذه قد أحفظت بعض العلماء، وكفرونى كالجهلاء، فما باليتهم بعد تفهم الحق وانكشاف طريق الاهتداء، ورأيت أن هذا هو الحق فبيّنتها ولو كان قومى كارهين. فإذا ثبت خلوصي إلى هذا المقدار، وبرهنت عليه بقدر كافٍ لأولى الأبصار، فمن يظن ظن السوء في أمرى بعد إلا الذي خبث عرقه كالفُجّار، وتدرب بالشر واللذع والأبر وسير الأشرار، وترك سير الصالحين. وما كان تأليفي في العربية إلا لمثل هذه الأغراض العظيمة، ولم يخل تنتاب العربيين كتبى حتى رأيت فيهم آثار التأثير، وجاءني بعض منهم وراسلنى بعض، وبعضهم هجنوا، وبعضهم صلحوا ووافقوا كالمسترشدين. وإني صرفت زمانا طويلا في هذه الإمدادات حتى مضت على إحدى عشر سنة في شغل الإشاعات، وما كنت من القاصرين . فلى أن أدعى التفرد في هذه الخدمات، ولى أن أقول إنني وحيد في هذه التأييدات، ولى أن أقول إننى حزز لها وحصن حافظ من الآفات، وبشرني ربي وقال مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ. فليس للدولة نظيرى ومثيلى فى نصرى وعونى، وستعلم الدولة إن كانت من المتوسمين. سمجھنے کے بعد اور ہدایت کا رستہ کھلنے کے پیچھے ان کی کچھ بھی پروا نہ کی اور میں نے دیکھا کہ یہی حق ہے سو میں نے بیان کر دیا اگرچہ میری قوم کراہت کرتی رہی۔ پس جبکہ میرا خلوص اس گورنمنٹ سے اس قدر ثابت ہوا اور میں نے اس قدر دلائل سے اس کو ثابت کر دیا جو دانشمندوں کے لئے کافی ہیں پس جو شخص اس کے بعد میرے پر بد گمانی کرے ایسا آدمی بجز ناپاک فطرت اور بجز ایسے شخص کے جس کی عادت میں نیش زنی اور شرارت داخل ہے اور کون ہو در حقیقت یہ اسی کا کام ہے جو شرارت کو پسند کرتا اور نیک بختی کی راہ کو چھوڑتا ہے۔ اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہو گئے جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے۔ اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے یہاں تک کہ گیارہ برس انہی اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔ مگر وہ لوگ جو عیسائی دین میں داخل ہوئے اور دین اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا سو ہم ان کو ایسے نہیں دیکھتے