The Light of Truth — Page 54
54 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE شكر هذه الدولة وإطاعتها في المعروف، فإنها تحمى دماءهم وأموالهم وتحفظهم من سطوة كل ظالم، وقد نجتنا من أنواع الكروب وارتجاف القلوب، فإن لم نشكر فكنا ظالمين. فالشكر واجب علينا دينا وديانة، ومن لا يشكر الناس ما شكر الله، والله يحب المقسطين. وإنا لن ننسى أيامًا وأزمنة مضت علينا قبلها، ووالله ما كان لنا أمن فيها إلى دقيقتين فضلا عن يوم أو يومين، وكنا نُمسى ونصبح متخوفين. فأشعتُ تلك الكتب المحتوية على تلك المضامين في كل ديار وفى أناس أجمعين، وأرسلتها إلى ديار بعيدة من العرب والعجم وغيرها، لعل الطبائع الزايغة تكون مستقيمة بمواعظها، ولعلها تكون صالحة لشكر الدولة وامتثالها، وتقلّ غوائل المفسدين، ولعلهم يعلمون أن هذه الدولة محسنة إليهم فيحبونها طائعين. هذا عملى وهذه خدمتى، والله يعلم نِيَّتِي، وهو خير المحاسبين. وما فعلت ذلك خوفًا من هذه الدولة أو طمعًا في إنعامها وإكرامها، إن فعلتُ إلا الله وامتثالا لأمر خاتم النبيين. فإن نبينا وسيدنا ومولانا حبيب الله وخليله محمد المصطفى صلعم قد أمرنا أن نثنى على المنعمين، ونشكر المحسنين، فلأجل ذلك شكرتها ونصرتها ما استطعتُ، وبثثتُ مِنَنَها وأشعتها في كل بلدة من گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور ہریک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے اور در حقیقت ہمیں اسی نے بے قراریوں اور دل کے لرزوں سے بچایا سو اگر شکر نہ کریں تو ظالم ٹھہریں گے۔ پس شکر ہم پر از روئے دین و دیانت کے واجب ہے اور جو شخص آدمیوں کا شکر نہیں کرتا اس نے خدا کا بھی شکر نہیں کیا اور خدا نہیں کو دوست رکھتا ہے جو طریق انصاف پر چلتے ہیں اور ہم ان دنوں اور ان زمانوں کو بھول نہیں گئے جو اس گورنمنٹ سے پہلے ہم پر گذرے اور بخدا ہمیں ان وقتوں میں دو منٹ بھی امن نہیں تھا چہ جائیکہ ایک دن یا دو دن ہو اور ہم ڈرتے ڈرتے شام کرتے اور صبح کرتے تھے۔ سے بہتر سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو یعنی دور دور کی ولایتوں میں بھیجا ہے جن میں سے عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں تا کہ سج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آ جائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے اس کی اطاعت کریں۔ یہ میرا کام اور یہ میری خدمت ہے اور خدا میری نیت کو جانتا ہے اور وہ سب ۔ محاسبہ کرنے والا ہے اور میں نے یہ کام گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امیدوار ہو کر کیا ہے بلکہ یہ کام محض اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کیا ہے کیونکہ ہمارے نبی اور ہمارے سردار اور ہمارے مولا نے جو خدا کا پیارا اور اس کا دوست محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعریف کریں جن کے ہم نعمت پرور دہ ہیں اور ان کا ہم شکر کریں جن سے ہمیں نیکی پہنچی ہو پس اسی وجہ سے میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک