The Light of Truth — Page 52
52 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE عندى من مال الدنيا وخيلها وأفراسها، غير أني أُعطيتُ جياد الأقلام ورزقت جواهر الكلام، وأُعطيتُ من نور يؤمننى العثار، ويبين لي الآثار. فهذه الدولة الإلهية السماوية قد أغنثني، وجبرت عيلتي وأضاءتنى ونورت ليلتي، وأدخلتنى فى المنعمين. فقصدت أن أعين الدولة البرطانية بهذا المال وإن لم يكن لي من الدراهم والخيل والبغال، وما كنت من المتمولين. فقمت الإمدادها بقلمى ويدى، وكان الله فى مددى وعاهدت الله تعالى من ذلك العهد أن لا أُؤلف كتابًا مبسوطاً من بعد إلا وأذكر فيه ذكر إحسانات قيصرة الهند وذكر مننها التي وجب شكرها على المسلمين. ومع ذلك كان في خاطري أن أدعو القيصرة المكرمة إلى الإسلام وأهديها إلى الربّ الذي هو خالق الأنام، فإنّها أحسنَتْ إلينا وإلى آبائنا، وما كان جزاء الإحسان إلا أن ندعو لها في الدنيا دعاء الخير والإقبال وفوز المرام، ونسأل الله لعقباها أن تُرزق توحيد الإسلام، وتنتهج سبل الحق وتؤمن بعظمة المليك العلّام، وتعرف الرب الذى أحد صمد ما ولد وما وُلد، وتُعطى نعماء أبد الآبدين. فألفت كتبًا وحرّرتُ فى كل كتاب أن الدولة البريطانية محسنة إلى مسلمي الهند وتنتجعها ذرارى المسلمين، فلا يجوز لأحد منهم أن يخرج عليها ويسطو كالباغين العاصين، بل وجب عليهم میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے پس اس الہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں اگرچہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔ اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوت اسلام کروں اور اس رب کی طرف سے اس کو راہنمائی کروں جو در حقیقت مخلوقات کا رب ہے کیونکہ اس کا احسان ہم پر اور ہمارے باپ دادوں پر ہے اور احسان کا عوض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس کی دنیا کی خیر اور اقبال کے لئے دعا کریں اور اس کے عقبی کے لئے خدا تعالی سے یہ مانگیں کہ اسلامی توحید کی راہ اس کے نصیب کرے اور حق کی راہوں پر چلے اور اس بادشاہ کی بزرگی کی قائل ہو جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور اس رب کو پہچانے جو اکیلا اور تمام مخلوق کا مرجع اور نہ مولود اور نہ والد ہے اور اس کو ابدی نعمتیں ملیں۔ سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہر یک کتاب میں میں نے لکھا کہ دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے اور مسلمانوں کی اولاد کی ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان میں سے جائز نہیں جو اس پر خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو بلکہ ان پر اس گورنمنٹ کا شکر واجب ہے اور اس کی اطاعت ضروری ہے کیونکہ یہ