The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 566

The Light of Truth — Page 50

50 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE مع الفوارس مددًا منه في أيام المفسدة، وسبق السابقين في إمدادات المال عند حلول الأهوال، مع أيام العسر والإقلال، وذهاب عهد الإمارات الآبائية وانقلاب الأحوال. فلينظر من كان له نظر صحيح أو قلب أمين. ولم يزل كان أبى مشغوف الخدمات حتى شاخ وجاء وقت الوفاة و وجب الارتحال، ولو قصدنا ذكر خدماته لضاق بنا المجال، وعجزنا عن التدوين. فالملخص أن أبي لم يزل كان شائِم برق الدولة، وقائما على الخدمة عند الضرورة، حتى أعزّته الدولة بمكاتيب رضائها، وخصّته في كل وقت بعطائها، وأسمحت له بمواساتها، وتفضلت عليه بمراعاتها، وحسبته من دواعي الخير ومن المخلصين. ثم إذا توفى أبى فقام مقامه فى هذه السّير أخى الميرزا غلام قادر، وغمرته مواهب الدولة كما غمرت والدى، وتوفى أخي بعد أبى فى بضع سنين. ثم بعد وفاتهما قفوتُ أثرهما واقتديت سيرهما وذكرت عصرهما، ولكني ما كنت ذا خصب ونعمة وسعة وثروة ولا ذا أملاك وأرضين، بل تبتلت إلى الله بعد ارتحالهما ولحقت بقوم منقطعين. وجذبنى ربّى إليه وأحسن مثواى، وأسبغ على من نعماء الدين. وقادني من تدنّسات الدنيا إلى حظيرة قدسه، وأعطانى ما أعطانى وجعلنى من الملهمين المحدثين. فما كان تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے سو میرے والد نے اس مفسدہ کے دنوں میں پچاس گھوڑے معہ سوار اس گورنمنٹ کو امداد کے طور پر دیئے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد میں سب سے بڑھ گیا باوجود یکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور ختم ہو کر گردش کے دن آگئے تھے پس جو شخص ایک نظر صحیح اور دل امین رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ سوچے ؟ اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امید وار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی جٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنی عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا بلکہ میں ان کی وفات کے بعد اللہ جل شانہ کی طرف جھک گیا اور ان میں جاملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا۔ اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہوں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو