The Light of Truth — Page 48
48 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وجناء، إذا ما تركض آراؤها في أرض مقاصدها فتفرى أديم الأرضين، وكل عقل عندها إلا عقل الدين. ونرجو أن يفتح الله عليها هذا الباب أيضا كما فتح أبوابا أخرى، والله أرحم الراحمين. ولا يخفى على هذه الدولة المباركة أنا من خُدامها ونُصحائها ودواعي خيرها من قديم، وجئناها في كل وقت بقلب صميم، وكان لأبى عندها زُلفى وخطاب التحسين. ولنا لدى هذه الدولة أيدى الخدمة ولا نظن أن تنساها في حين. وكان والدى الميرزا غلام مرتضی ابن میرزا عطاء محمد القادیانی من تصحاء الدولة وذوى الخُلّة وعندها من أرباب القربة، وكان يُصدر على تكرمة العزة، وكانت الدولة تعرفه غاية المعرفة. وما كُنّا قط من ذوى الظُّنّة، بل ثبت إخلاصنا فى أعين الناس كلهم وانكشف على الحاكمين، ولتسطلع الدولة حكامها الذين جاء ونا ولبثوا بيننا كيف عشنا أمام أعينهم وكيف سبقنا في كل خدمة مع السابقين. ولا حاجة إلى تفصيل هذه الحقائق، فإن الدولة البريطانية مُطَّلِعة على مراتب خلوصنا وشؤون خدماتنا والإعانات التي كانت ترى منّا وقتًا بعد وقت وفي أيام فساد المفسدين. وتعلم الدولة أن أبي كيف أمدها فى حين محاربات مشتدّةِ الهبوب وفتن مشتطةِ اللهوب، وأنه أتى الدولة خمسين خيلا نہیں۔ اور اس گورنمنٹ کی فکریں تیز دوڑنے والی ہیں کہ کوئی تیز اور مضبوط اونٹنی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی جس وقت گورنمنٹ اپنے راؤں کو مقاصد کی زمین میں دوڑاتی ہے تو وہ رائیں روئے زمین کو کاٹتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور ہر یک عقل بجز دینی عقل کے اس گورنمنٹ کو حاصل ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ دروازہ بھی اس پر کھل جائے اور خدا ارحم الراحمین ہے۔ اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا والد میرزا غلام مرتضیٰ ابن میرزا عطا محمد رئیں قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہو گیا اور حکام پر کھل گیا۔ اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام سے دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس طرح ہم ہر یک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔ اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب خلوص اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتا فوقتا ہم سے ظہور میں آئیں خاص کر دہلی کے مفسدہ کے وقت میں۔ اور اس گور نمنٹ کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد نے کیونکر اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت آندھی چل رہی