The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 566

The Light of Truth — Page 26

26 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE يطلبون الحق وتفصيل كلُّ ما قلنا من قبل، والتي تنهال من تلك الرسائل متفرقا يُعطى هذا الكتاب مجتمعا للجائعين ونسبته إليها كنسبة شجرة إلى بذرها، وجاء بحمد الله حسنًا مبسوطا مباركًا. وأما ثمن هذه الكتب فهى هدية لبلاد الحجاز وبلاد الشام والعراق والمصريين والأفريقيين كلهم، ولكل من كان عالما منصفا مع صفر اليد. وأما غيرهم فعليهم إن أرادوا اشتراءها أن يُرسلوا روبية في ثمن «الحمامة»، وكذلك في ثمن الكراما»، ونصفها في ثمن التبليغ»، وآنتين «للتحفة» إن كانوا مشترين. وإنّا نقصنا آنةً من ثمن «التحفة» رعايةً للشائقين. وما ألفتُ هذه الكتب إلا لأكباد أرض العرب، وكان أعظم مراداتي أن تشيع كتبي في تلك الأماكن المقدسة والبلاد المباركة فرأيت أن شيوع الكتب في تلك البلاد فرع لوجود رجل صالح يشيعها، وأيقنت أن شهرة كتبى وانتشارها في صلحاء العرب أمر مستحيل من غير أن يجعل الله من لدنه ناصرا منهم ومن إخوانهم. فكنت أرفع أكف الضراعة والابتهال لتحصيل هذه المنية، وتحقيق هذه البغية، حتى أجيبت دعوتى، وأُعطيت لى بغيتي، وقاد إلى فضل الله رجلًا ذا علم وفهم ومناسبة اس امر کی تفصیل ہے جس کو ہم پہلی کتابوں میں بیان کر چکے ہیں اور جو کچھ پہلی کتابوں سے متفرق طور پر فوائد علمیہ کی بارش ہوتی ہے یہ کتاب حمامة البشریٰ بھوکوں کے لئے ایک ہی جگہ پر پیش کر دیتی ہے اور اس کی نسبت دوسری کتابوں کی طرف ایسی ہے جیسی درخت کی اپنے بیج کی طرف اور خدا کی حمد اور شکر ہے کہ یہ کتاب مبسوط اور مبارک ہے اور قیمت کے بارہ میں حال یہ ہے کہ یہ کتابیں ملک حجاز اور بلاد شام اور عراق اور مصریوں اور افریقیوں کے لئے تو مفت بطور ہدیہ ہیں اور ایسا ہی اس کے لئے بھی جو عالم اور منصف مزاج اور شہیدست ہو اور دوسروں کو قیمت سے ملیں گی سو اگر وہ خریدنا چاہیں تو لازم ہے کہ حمامة البشریٰ کی ایک روپیہ قیمت بھیجیں۔ اور ایسا ہی ایک روپیہ کرامات الصادقین کے لئے اور آٹھ آنہ تبلیغ کی قیمت اور دو آنہ تحفہ کی اگر خریداری کا ارادہ ہو۔ اور ہم نے ایک آنہ تحفہ کی قیمت سے بپاس خاطر شائقان کم کر دیا ہے۔ اور میں نے ان کتابوں کو صرف زمین عرب کے جگر گوشوں کے لئے تالیف کیا ہے اور میری بڑی مراد یہی تھی کہ ان مقدس جگہوں اور مبارک شہروں میں میری کتابیں شائع ہو جائیں پس میں نے دیکھا کہ کتابوں کا ان ملکوں میں شائع ہونا ایک ایسے نیک انسان کے وجود کی فرع ہے جو شائع کرنے والا ہو اور میں نے یقین کیا کہ میری کتابوں کا صلحاء عرب میں شائع ہونا ایک امر محال ہے بجز اس صورت کے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے میرے لئے ان میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے کوئی مدد دینے والا مقرر کرے سو میں تضرع کے ہاتھ اٹھاتا اور دعائیں عاجزی سے کرتا تھا کہ یہ آرزو اور مراد میرے لئے حاصل اور متحقق ہو یہاں تک کہ میری دعا قبول کی گئی اور میری مراد مجھے دی گئی اور میری طرف خدا کا فضل ایک ایسے آدمی کو کھینچ لایا جو صاحب علم اور فہم اور مناسبت تھا اور نیک بختوں میں سے تھا۔ اور میں نے اس کو پاک اصل اور پسندیدہ خلق والا اور پاک فطرت والا اور دانا