The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 566

The Light of Truth — Page 24

24 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE في غُنية من كتاب الله ورسوله، بل رأيتهم ضاربين بعود ومزمار آخر، وكل أحد منهم زمار بما عنده من الخيالات الباطلة، وارتضى بمعازفه النفسانية متمسكا بها، ولا يتوبون ولا يتندمون، بل أراهم يصرّون ويفخرون على جهلاتهم ويصفقون بالأيادى فرحين، ويكفرون المؤمنين مجترئين كأنهم في مأمن من مؤاخذة الله ومحاسباته، وكأن الله لا يسأل عنهم ولا يقول لم قفوتم ما لم يكن لكم به علم، ولا يُنبئهم بما في صدورهم في يوم كلا ، بل إنهم من المسؤولين. ورأيت أن الفتن ليست محدودة إلى أنفسهم، بل العامة قد اجتمعوا على صفيرهم، واغتروا بتقاريرهم اليابسة الملمعة، فاشتعل غيظ العامة علينا، وتبوّغ دمهم بتهييج المفترين، وحسبوهم عالمين متدينين صادقين. فلما زلزلت أرض الهند كلها، وأحسست من العلماء البخل والحسد، وضعتُ في نفسي أن أعرض عنهم فارًا إلى مكة، وأن أتوجه إلى صلحاء العرب ونخباء أُم القرى الذين خلقوا من طينة الحرية، وتفوّقوا دَرَّ الأهلية، فألقى الله فى قلبى عند مس هذه الحاجة أن أؤلف كتبا في لسان عربي مبين. فألفتُ بفضل الله ورحمته وتوفيقه كتابا اسمه التبليغ، ثم كتابا آخر اسمه التحفة، ثم كتابا آخر اسمه كرامات الصادقين ثم ألفتُ بعدها حمامة البشرى، فيه بشرى للذين ان کی رگوں میں رچ چکی تھیں اور میں نے ان کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے لا پرواہ پایا بل میں نے دیکھا کہ وہ تو اور ہی بانسلی بجا رہے ہیں اور ہر ایک بانسلی بجانے والا اپنے خیالات باطلہ کے طرز پر بجانے میں مشغول ہے اور ہر ایک شخص اپنے نفسانی آلات سرود لئے بیٹھا ہے اور ان سے خوش ہے نہ توبہ کرتے اور نہ پچھتاتے ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات باطلہ پر اصرار کرتے اور ناز کرتے ہیں اور خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور بڑی دلیری سے مومنوں کو کافر ٹھہرا رہے ہیں۔ گویا ان کو خدا تعالیٰ کے مؤاخذہ سے بکلی امن ہے اور اس کے محاسبہ سے بے غم ہیں گویا خدا ان سے سوال نہیں کرے گا اور نہیں کہے گا کہ تم کیوں ایسی بات کے پیچھے پڑے جس کا تمہیں قطعی اور یقینی علم نہیں تھا اور ان کے دلی ارادے ان پر ظاہر نہیں کرے گا ہر گز نہیں بلکہ ان سے باز پرس ہو گی۔ اور میں نے دیکھا کہ فتنے انہیں کی ذات تک محدود نہیں رہے بلکہ عوام الناس اُن کی سیٹی پر جمع ہو گئے ہیں اور ان کی خشک اور ملمع باتوں پر فریفتہ ہو گئے۔ سو عام لوگوں کا غصہ ہم پر بھڑکا اور ان کا خون بباعث افترا پردازوں کی انگیخت کے جوش میں آیا۔ اور ان کو سمجھ لیا کہ یہ لوگ صاحب علم اور دیانتدار اور سچے ہیں۔ پس جب ہند کی زمین میں ایسا زلزلہ آیا کہ ساری زمین ہل گئی اور علماء میں میں نے بخل اور حسد پایا تو میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا کہ ان لوگوں سے اعراض کروں اور مکہ کی طرف بھاگوں اور صلحاء عرب اور مکہ کے برگزیدوں کی طرف توجہ کروں کیونکہ وہ آزادی کی مٹی سے پیدا کئے گئے اور اہلیت کے دودھ سے پرورش پائے ہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے اس حاجت کے پیدا ہونے کے وقت میرے دل میں یہ القا کیا کہ میں کھلی کھلی عربی میں چند کتابیں تالیف کروں۔ سو میں نے خدا کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی توفیق سے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام تبلیغ ہے پھر دوسری تالیف کی جس کا نام تحفہ ہے پھر تیسری تالیف کی جس کا نام کرامات الصادقین ہے پھر چوتھی تالیف کی جس کا نام حمامة البشری ہے اور حمامة البشری میں ان لوگوں کے لئے بشارتیں ہیں جو حق کے طالب ہیں اور نیز ہر ایک