The Light of Truth — Page 464
464 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO معشر الإخوان أو تولّون مدبرين؟ ها أنتم وجدتم ما كنتم فقدتم فبادروا إلى الفضل الذي نزل إليكم، والمجدد الذي بعث لديكم، فلا تشكوا ولا ترتابوا وقوموا بهمم تزول بها الجبال وتهرب الأفيال. ولا تحقروا أيام الله فيحل بكم غضبه ويتوجه إليكم لهبه. فاتقوا مقت الله ولا تتكلموا مجترئين. وإني سمعت أن بعض الجهلاء وطائفة من السفهاء يقولون إن الخسوف والكسوف في رمضان وإن كنا نجد مُؤيّده الفرقان، ومع ذلك يوجد في الأخبار ويتلى في الآثار، ولكنا لسنا بمطمئنين وعالمين بأنه ما وقع في أول الزمان، وما ثبت غرابته عند أهل الأديان، فكيف نكون مستيقنين؟ أما الجواب فاعلموا أيها الجهلاء والسفهاء أن هذا حديث من خاتم النبيين وخير المرسلين، وقد كتب في الدارقطني الذي مر على تأليفه أزيد من ألف سنة فاسألوا المنكرين. فإن كنتم من المرتابين فأخرجوا لنا كتابًا أو جريدة يوجد فيه دعواكم ببرهان مبين. وأتوا بقائل يقول إني رأيت كمثل هذا الخسوف والكسوف قبل هذا إن كنتم صادقين. ولن تستطيعوا ولن تقدروا على ذلك، فلا تتبعوا الكاذبين. ألم تعلموا أن علماء السلف كانوا منتظرين لهذه الآية وراقبى هذه الحجة قرنا بعد قرن وجبلةً بعد جبلة؟ فلو وجدوها في قرن لكانوا أوَّلَ الذاكرين فيكتبهم وما كانوا متناسين. فإنهم كانوا يعظمون هذا الخبر المأثور، ويُحصُون فى رقبته الأيام والشهور، وينتظرونه كالمغرمين، وكانوا يُحنّون إلى رؤية سے ہو گا۔ سواے حامیان ملت اور اے صاحبانِ غیرت اور حمیت اور اے مدد گاران شریعت زمانہ کو پہچان لو کیونکہ وقت آگیا اور یہ وہی زمانہ ہے جس کے آنے کے تم امیدوار تھے اور یہ وہی وقت ہے جس کی امیدیں ہمیشہ سے تھیں اور یہ وہی مہدی ہے جس کے انتظار میں تم تھے دیکھو چاند اور سورج کو گرہن ہو گیا پس اب بھی آؤ گے یا نہیں خبر دار تم نے وہ زمانہ پالیا جو کھویا تھا۔ سو اس فضل کی طرف دوڑو جو تم پر اترا اور اس مجدد کی طرف آؤ جو مبعوث ہوا اور کچھ شک و شبہ مت کرو اور ان ہمتوں کے ساتھ اٹھو جن سے پہاڑ دور ہو جاتے ہیں اور ہاتھی بھاگتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے دنوں کی تحقیر مت کرو اور اگر ایسا کیا تو تم پر غضب نازل ہو گا سو خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈرو اور دلیری سے مت بولو۔ اور میں نے سنا ہے کہ بعض جاہل نادان یہ بات کہتے ہیں کہ اگر چہ چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں ہو گیا اور ہم قرآن کو اس پیشگوئی کا مؤید بھی پاتے ہیں اور اخبار اور آثار میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے مگر ہم کو یہ تسلی نہیں کہ کبھی پہلے زمانہ میں یہ واقع نہیں ہوا اور اس کی غرابت اہل ادیان کے نزدیک ثابت نہیں پس ہم کیونکر یقین کریں۔ مگر جواب یہ ہے کہ اے نادانو اور سفیہو یہ حدیث خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے جو خیر المرسلین ہے اور یہ حدیث دار قطنی میں لکھی ہے جس کی تالیف پر ہزار برس سے زیادہ گذرا پس پوچھ لو ان سے اگر تمہیں شک ہے تو ہمارے لئے کوئی ایسی کتاب یا اخبار نکالو جس میں تمہارا دعویٰ صاف دلیل کے ساتھ پایا جاوے اور کوئی ایسا قائل پیش کرو کہ اس قسم کا خسوف اور کسوف اس نے دیکھا ہوا اگر تم سچے ہو۔ اور تمہیں ہر گز قدرت نہیں ہو گی کہ اس کی نظیر پیش کر سکو پس تم جھوٹوں کی پیروی مت کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ علماء سلف اس نشان کے منتظر تھے اور اس حجت کی انتظار کر رہے تھے اور صدی بعد صدی اور