The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 566

The Light of Truth — Page 458

458 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO القوس والسهم والسنان، فأعِدُّوا للأعداء ما ترون نافعًا عند العقلاء . ولن يمكن أن يكون لكم الفتح إلا بإقامة الحجة وإزالة الشبهة، وقد تحركت الأرواح لطلب صداقة الإسلام، فادخلوا الأمر من أبوابه ولا تتيهوا كالمستهام . فإن كنتم صادقين وفى الصالحات راغبين فابعثوا رجالا من زمرة العلماء ليسيروا إلى البلاد الإنكليزية كالوعظاء، ليتموا على الكَفَرة حُجَجَ الشريعة الغراء، ويؤيّدوا زُمَرَ الأصدقاء، ويقوموا لهم معاونين. والأمر الذى أراه خيرًا وأنسب وأصلح وأصوب، فهو أن ينتخب لهذا المهم رجل شريف عارف لسان الإنكليزية كحبى فى الله المولوى حسن على، فإنه من ذوى الهمة وإنه صالح لهذا الخطة، ومع ذلك تقى زكى وجرى لإشاعة الملة. ولكن هذه المنية لا تتم إلا بهمم رجال ذوى مال، الذين يبذلون جهدهم لخدمة القوم ولا ينظرون إلى اللائم واللؤم. وتعلمون أن هذا السفر يحتاج إلى زاد يكفى، ورفيق يعلم العربية ويدرى، فعاونوا بأموالكم وأنفسكم إن كنتم تحبون الله ورسوله، ولا تقعدوا مع القاعدين. واعلموا أن الإسلام مركز وعمود للعالم الإنساني، لأن الملك الجسماني ظل للملك الروحاني، وجعل الله سلامته فى سلامته وكرامته فى كرامته، وكذلك جرت سنة ربّ العالمين. وإن الله إذا أراد أن يُعلى قوما فيجعل لهم هممًا في الدين، وغيرةً للصراط المتين، فقوموا للأعداء، بھلا دیا اور تمہاری عادت تغیر صورت اور تغیر خوشبو ہو گئی اور تم نے مومنوں کا خلق بھلا دیا۔ اے لوگو قیدیوں کے چھڑانے کے لئے اور گمراہوں کی ہدایت کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور تلوار اور نیزوں پر افروختہ ہو کر مت گرو اور اپنے زمانہ کے ہتھیاروں اور اپنے وقت کی لڑائیوں کو پہچانو کیونکہ ہر ایک زمانہ کے لئے ایک الگ ہتھیار اور الگ لڑائی ہے پس اس امر میں مت جھگڑو جو ظاہر ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ ہمارا زمانہ دلیل اور برہان کے ہتھیاروں کا محتاج ہے تیر اور کمان اور نیزہ کا محتاج نہیں۔ پس تم دشمنوں کے لئے وہ ہتھیار طیار کرو جو عند العقلاء نافع ہیں اور ہرگز ممکن نہیں جو بغیر حجت قائم کرنے اور شبہات دور کرنے کے تمہیں فتح ہو۔ اور بلاشبہ روحیں اسلامی صداقت طلب کرنے کے لئے حرکت میں آگئی ہیں پس تحصیل مقصد کے لئے دروازہ میں سے داخل ہو پس اگر تم سچے ہو اور صلاحیت کی طرف راغب ہو تو تم علماء میں سے بعض آدمی مقرر کرو تاکہ واعظ بن کر انگریزی ملکوں کی طرف جائیں اور تا کافروں پر شریعت کی حجت پوری کریں اور دوستوں کی مدد کریں اور ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں اور جس طریق کو میں بہتر اور مناسب تر دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس مہم کے لئے کوئی آدمی ماہر زبان منتخب کیا جائے جیسا کہ حبی فی اللہ مولوی حسن علی کہ وہ اہل ہمت میں سے ہے اور وہ اس امر کے لئے لائق ہے اور باوجود اس کے نیک بخت اور اشاعت اسلام کے لئے دلیر ہے لیکن یہ مراد بجز متمول لوگوں کی ہمت کے پوری نہیں ہو سکتی یعنی ایسے لوگ جو خدمت قوم کے لئے پوری کوشش کریں اور کسی کی ملامت کی پروا نہ کریں اور تم جانتے ہو کہ یہ سفر اس بات کا محتاج ہے کہ زاد کافی ہو اور کوئی ایسا رفیق بھی ساتھ ہو جو عربی دان ہو سو تم اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ مدد کرو اور اگر تم اللہ اور رسول کے محب ہو اور نکمے ہو کر مت بیٹھو۔ اور یقیناً سمجھو کہ دین اسلام عالم روحانی کے لئے مرکز ہے کیونکہ جسمانی ملک روحانی ملک کے لئے تابع ہے اور خدا تعالیٰ نے جسمانی ملک