The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 566

The Light of Truth — Page 418

418 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO ولا يظهران إلا عند كثرة المعاصى وغلوّ الخَلق فى العصيان، وكثرة الخبيثات والخبيثين ولأجل ذلك أمر صلعم عند رؤيتهما لفعل الخيرات والمبادرة إلى الصالحات من الصلوات والصدقات بإمحاض النيات والدعاء والبكاء كالقانتين والقانتات، والرجوع إلى الله والذكر والتضرعات، والقيام والركوع والسجدات والتوبة والإنابة والاستغفار، وطلب المغفرة من الغفار، والخشوع والابتهال والانكسار، ومثل ذلك على حسب الطاقة من الإحسان وفك الرقبة والعتاقة ومواساة اليتامى والغرباء ، والتذلّل كل التذلل في حضرة الكبرياء ، رب السماوات والأرضين. فكان السر في هذه الأعمال والخشوع والابتهال أن الشمس والقمر لا تنكسفان إلا عند آفة نازلة وداهية منزلة، وعند قرب أيام البأس وانعقاد أسباب الشر الذى هى مخفية عن أعين الناس، ويعلمها ربّ العالمين. فتقتضى رحمة الله تعالى وحكمته التي ترى اللطف والجمال أن يعلم الناس عند كسوف طرقا هي تدفع موجباته وتزيل سيئاته، فعلمهم هذه الطرق على لسان خير المرسلين. ولا شك أن الحسنات يذهبن السيئات، وتطفى نيرانًا دموعُ المستغفرين. وإذا عمل عبد عملا صالحا بإمحاض النية گنہگاروں کے ڈرانے کے لئے ہیں اور اس وقت ظاہر ہوتے ہیں کہ جب دنیا میں گناہ بہت ہوں اور خلقت میں بدکاریاں پھیل جائیں اور پلید بہت ہو جائیں اور اسی غرض سے رسول اللہ صلعم نے گرہن کے وقت میں فرمایا کہ بہت نیکیاں کریں اور نیک کاموں کی طرف جلدی کریں جیسی خالص نیت کے ساتھ نماز اور روزہ اور دعا کرنا اور رونا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور ذکر اور تضرع اور قیام اور رکوع اور سجدہ اور توبہ اور انابت اور استغفار اور خشوع اور ابتہال اور انکسار اور ایسا ہی حسب طاقت احسان اور غلام آزاد کرنا اور کسی کو سبکدوش کرنا اور یتیموں کی غم خواری اور جناب الہی میں تذلل پس گویا کہ ان اعمال کی بجا آوری میں جو نماز اور خشوع اور انتہال ہے یہی بھید ہے کہ چاند اور سورج کا اسی حالت میں گرہن ہوتا ہے کہ جب کوئی آفت نازل ہونے والی ہو اور کسی مصیبت کا زمانہ قریب ہو اور آسمان پر ایسے اسباب شر کے جمع ہو گئے ہوں جو لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اور صرف ان کو خداتعالیٰ جانتا ہے پس خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی پر لطف حکمت تقاضا کرتی ہے جو کسی کسوف کے وقت لوگوں کو وہ طریقے سکھلاوے جو کسوف کے موجبات کو دور کر دیں اور اس کی بدیوں کو ہٹا دیں پس اس نے اپنے نبی کی زبان پر یہ تمام طریقے سکھلا دیئے۔ اور کچھ شک نہیں کہ بدیاں نیکیوں سے دور ہوتی ہیں اور گناہ کی معافی چاہنے والوں کے آنسو آگ کو بجھا دیتے ہیں۔ اور جس وقت کوئی بندہ کوئی نیک عمل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اس سے راضی کر دیتا ہے پس وہ نیک عمل اس کی بدی کا مقابلہ کرتا ہے جس کے اسباب مہیا ہو گئے ہیں پس خدا تعالیٰ اس عامل کو اس بدی سے بچا لیتا ہے۔ اور یہ