The Light of Truth — Page 378
378 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO ثم إذا كانت حقيقة الكسوف بالتعريف المعروف أنه هيئة حاصلة من حول القمر بين الشمس والأرض في أواخر أيام الشهر، فكيف يمكن أن يتكلم أفصح العجم والعرب بلفظ يخالف محاورات القوم واللغة والأدب؟ وكيف يجوز أن يتلفظ بلفظ وضع لمعنى عند أهل اللسان، ثم يصرفه عن ذلك المعنى من غير إقامة القرينة وتفصيل البيان؟ فإن صرف اللفظ عن المحاورة ومعانيه المرادة عند أهل الفن وأهل اللغة لا يجوز لأحد إلا بإقامة قرينة موصلة إلى الجزم واليقين. وقد ذكرنا أن القرآن يصدق هذا البيان، ولو كان الخسوف والكسوف فى أيامٍ غير الأيام المعتادة بالتقليل أو الزيادة، لما سماه القرآن خسوفا ولا كسوفا، بل ذكره بلفظ آخر وبينه ببيان أظهر، ولكن القرآن ما فعل كذا كما أنت ترى، بل سمّى الخسوف خسوفا ليُفهم الناس أمرًا معروفًا . نعم، ما ذكر الكسوف باسم الكسوف، ليشير إلى أمر زائد على المعتاد المعروف، فإن هذا الكسوف الذي ظهر بعد خسوف القمر كان غريبا ونادرة الصور، وإن كنت تطلب على هذا شاهدًا أو تبغى مشاهدًا فقد شاهدت صُورَه الغريبة وأشكاله العجيبة إن كنت من ذوى العينين. ثم كفاك في شهادته ما طُبع في الجريدتين المشهورتين المقبولتين. أعنى الجريدة الإنكليزية بانير، وسول ملترى كزت المشاعتين فى مارج سنة ۱۸۹۴ء والمشتهرتين. پھر جب کہ سورج گرہن کی حقیقت مشہور تعریف کی رو سے یہ ہوئی کہ وہ اس ہیئت حاصلہ کا نام ہے کہ جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہو جائے اور یہ حائل ہو جانا مہینہ کے آخر ایام میں ہو پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ جو نجم اور عرب کے تمام لوگوں سے زیادہ تر فصیح ہے اور وہ ایسا لفظ بولے جو محاورات قوم اور لغت اور ادب سے بالکل مخالف ہو اور جائز ہے کہ ایسا لفظ بولا جائے جو اہل زبان کے نزدیک ایک خاص معنوں کے لئے موضوع ہے پھر اس کو بغیر اقامت کسی قرینہ کے اس معنے سے پھیر اجائے کیونکہ کسی لفظ کا محاورہ اور معنی مراد مستعملہ سے پھیر نا اہل فن اور اہل لغت کے نزدیک جائز نہیں مگر اس حالت میں کہ کوئی قرینہ یقینی قائم کیا جاوے اور ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن اس بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور اگر کسوف خسوف ایسے ایام میں ہوتا جو اس کے لئے سنت قدیمہ میں نہیں ہے تو قرآن اس کا نام خسوف کسوف نہ رکھتا بلکہ دوسرے لفظ سے بیان کرتا لیکن قرآن نے ایسا نہیں کیا جیسا کہ تو دیکھتا ہے بلکہ اس کا نام خسوف ہی رکھا تا کہ لوگوں کو سمجھاوے کہ یہ خسوف معروف ہے کوئی اور چیز نہیں ہاں قرآن نے کسوف کو کسوف کے لفظ سے بیان نہیں کیا تا ایک امر زائد کی طرف اشارہ کرے کیونکہ یہ سورج گرہن جو بعد چاند گرہن کے ہوا یہ ایک غیر معمولی اور نادرة الصور تھا اور اگر تو اس پر کوئی گواہ طلب کرتا ہے یا مشاہدہ کرنے والوں کو چاہتا ہے پس اس سورج گرہن کی صور غریبہ اور اشکال عجیبہ مشاہدہ کر چکا ہے پھر تجھے اس بارہ میں وہ خبر کفایت کرتی ہے جو دو مشہور اور مقبول اخبار یعنی پانیر اور سول ملٹری گزٹ میں لکھی گئی ہے اور وہ دونوں پر چے مارچ ۱۸۹۴ کے مہینہ میں شائع ہوئے ہیں۔ اور ان کی