The Light of Truth — Page 346
THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO وأما تفصيل الكلام في هذا المقام ، فاعْلَمُوا يا أَهْلَ الإسلام وأتباع خير الأنام، أن الآية التي كنتم توعدون في كتاب الله العلام وتُبشرون من سيّد الرسل نور الله مزيل الظلام أعنى خسوف النيرين في شهر رمضان الذي أُنزل فيه القرآن، قد ظهر في بلادنا بفضل الله المنّان، وقد انخسف القمر والشمس وظهرت الآيتان فاشكروا الله وخروا له ساجدين. وإنكم قد عرفتم أن الله تعالى قد أخبر عن هذا النبأ العظيم في كتابه الكريم، وقال للتعليم للتعليم والتفهيم فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرِ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ : فتفكروا في هذه الآية بقلب أسلم 1 وأطهر، فإنه من آثار القيامة لا من أخبار القيامة كما هو أجلى وأظهر عند العاقلين. فإن القيامة عبارة عن فساد نظام هذا العالم الأصغر وخلق العالم الأكبر، فكيف يقع في حالة 1. القيامة : ٨ - ١١. الناشر 346 اب ہم اس مقام میں اس کلام کی کچھ تفسیر کرنا چاہتے ہیں پس اے اہل اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والو تمہیں معلوم ہو کہ وہ نشان جس کا قرآن کریم میں تم وعدہ دیے گئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سید الرسل اور اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے تمہیں بشارت ملی تھی یعنی رمضان شریف میں آفتاب اور چاند گرہن ہونا وہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا وہ نشان ہمارے ملک میں بفضل اللہ تعالیٰ ظاہر ہو گیا اور چاند اور سورج کا گر ہن ہوا اور دونشان ظاہر ہوئے پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو اور اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گرو۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس واقعہ عظیمہ کے بارے میں اپنی کتاب کریم میں خبر دی ہے اور سمجھانے اور جتلانے کے لئے فرمایا ہے پس جس وقت آنکھیں پتھرا جائیں گی اور چاند گرہن ہو گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کئے جائیں گے یعنی سورج کو بھی گرہن لگے گا تب اس روز انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے۔ سو اس نشان میں ایک سلیم اور پاک دل کے ساتھ فکر کرو کیونکہ یہ خبر قیامت کے آثار میں سے ہے قیامت کے واقعات میں سے نہیں ہو سکتی جیسا کہ عقلمندوں کے نزدیک نہایت صاف اور روشن ہے۔ وجہ یہ کہ قیامت اس حال سے مراد ہے جبکہ اس عالم اصغر کا نظام توڑ دیا