The Light of Truth — Page 298
298 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE واعلموا أنكم قد فهمتم فى أنفسكم فى هذا الزمان الذي هو زمان التدبّر والإمعان، أن عقائدكم خرافات وفيها آفات، وتضحك عليكم الصبيان والنسوان فتريدون أن تلقوا عليها رداء التأويلات لعلكم تخلصون من الملامات، ومن لعن اللاعنين؛ فزينتم الباطل لتدحضوا به الحق وكنتم قوما مسرفين. وأما خُبث عقائدكم فليس شيء يخفى على الناس، أو يخفى من عين كيس ذي الفهم والقياس. ألستم تعبدون عيسى في هذا الزمان كما كنتم تعبدون في أيام نزول القرآن؟ ألستم تمجدونه وتقدسونه وتعظمونه كمثل إله العالمين؟ ألستم تقولون إن كل أمر فُوَّضَ إلى عيسى، وهو الله في الأولى والأخرى، وهو الذى ترجعون إليه وتحضرون لديه، ويحكم بينكم كملك أكرم وأعظم، وتعرفونه بصورته أنه ابن مريم؟ فموتوا ندامةً يا معشر المشركين. وكيف تُخفون شراككم وقد ظهرت الأسرار وبدت الأخبار، وأشعتم عقائدكم بالاستعجال وزففتم زفيف الرال و إنا عرفناكم وعرفنا الكيد والفن، فكيف نحسن بكم الظن، بعدما كنا عارفين؟ إنكم قوم تُضلّون الناس بتلبيساتكم ليميلوا إلى جهلا تكم، ويقبلوا خزعبلا تكم ويجيئوكم كمسحورين. وإنا سمعنا منكم سب نبينا مع الافتراء والمين، وأُخرقنا بالتارين، وما نشكو إلا إلى الله وهو خير الناصرين. تمہارے عقائد محض خرافات ہیں اور ان میں ایسے آفات ہیں جن پر لڑکے اور عورتیں بھی ہنستی ہیں پس تم چاہتے ہو کہ ان پر تاویلوں کی چادر ڈال دو تاکہ تم ملامتوں اور لعنتوں سے بچ جاؤ۔ پس تم نے باطل کو آراستہ کیا تا کہ تم حق کو اس کے ساتھ باطل ٹھہراؤ اور تم ایک حد سے نکلنے والی قوم ہو۔ اور تمہارے عقیدوں کا ناپاک ہونا ایسی شے نہیں ہے جو لوگوں پر پوشیدہ رہ سکے یا ایک دانا کی آنکھ اور قیاس سے چھپ سکے کیا تم حضرت عیسیٰ کی اس زمانہ میں پرستش نہیں کرتے جیسا کہ نزول قرآن کے وقت پرستش کرتے تھے کیا تم خدا تعالیٰ کی طرح اس کی تمجید اور تقدیس اور تعظیم نہیں کرتے۔ کیا تم یہ نہیں کہتے کہ ہر ایک امر عیسیٰ کو سپر د کیا گیا ہے اور وہی خدا اِس جہان اور اُس جہان میں ہے اور وہی ہے جس کی طرف رجوع دیے جاؤ گے اور جس کے پاس حاضر کئے جاؤ گے اور جو تم میں بادشاہ کی طرح فیصلہ کرے گا اور تم اس کو اس کی صورت کے ساتھ پہچان لو گے کہ یہ ابن مریم ہے سو اے مشرکو! شرمندگی سے مر جاؤ۔ اور تم اپنے شرک کو کیونکر چھپا سکتے ہو حالانکہ بھید ظاہر ہو گئے اور خبریں آشکارا ہو گئیں اور تم نے جلدی سے اپنے عقائد شائع کر دیے اور ایسے دوڑے جیسا شتر مرغ کا بچہ دوڑتا ہے اور ہم نے تم کو پہچان لیا اور تمہارا فریب بھی پہچان لیا پس ہم کیونکر تم پر نیک ظن کریں بعد اس کے جو ہم شناسا ہو گئے۔ تم وہ قوم ہو جنہوں نے خلق اللہ کو مکروں کے ساتھ گمراہ کر دیا تاکہ تمہاری باطل باتوں کی طرف وہ میل کریں اور تمہاری خرافات کو قبول کریں اور جادو زدہ لوگوں کی طرح تمہارے پاس آ جائیں۔ اور ہم نے تم سے نبی صلعم کی نسبت گالیاں سنیں اور افتراء اور جھوٹ سنا اور ہم دو قسم کی آگ سے جلائے گئے یعنی ایک دشنام اور دوسرے افترا سو ہم کسی کے پاس شکایت نہیں کرتے اور محض اللہ تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں اور وہ خیر الناصرین ہے۔