The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 566

The Light of Truth — Page 294

294 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE رجل لطيف نظيف ومع ذلك زكى وظريف، فرآه يأكل الغائط فأنبه كما يؤنب الحكم المايط، وقال ما تفعل ذلك؟ أتأكل البراز يا براز الخبيثين؟ فتندم وفكر في نفسه كيف يزيح برص هذه الملامة، وكيف ينجو من شناعة الندامة، فنَحَتَ جوابا كالذين يرون أجاجَهم كماء معين، وقال إني ما أكل البراز، وما كنتُ أن أختاز فما أبالى الإفزاز، وما أوعزتُ إلى هذا الأمر الذى هو أكبر المكروهات، وإن هو إلا تهمة مذاع ذى البهتانات وإنى من المبرئين. وإن العدو ما عرف الحقيقة ونسي الطريقة، فإنى آكل أجزاءاً غذائية التي تنفصل من الهضم المعدى بإذن خالق الأشياء، وتدفعها الطبيعة إلى بعض الأمعاء، فتخرج من المبرز المعلوم مع قليل من الصفراء، فهذا شيء آخر وليس ببراز كما هو زعم الأعداء، بل هو غذاء أُعِدَّ لمثلنا الطيبين. فاتقوا هذا المثال وفكروا في سوانح المسيح وفيما قال. وكل ما قال عيسى نبي الله فهو طيب، ولكن تعسًا للذى لا يفهم الأقوال وإنّا نبكى على حال الظالمين والمؤذين الكالمين، بل ندعو الله أن يهديهم ويرحمهم وهو خير الراحمين. ووالله إنا لا نضحك بل نبكى على حالكم أنكم تسترون الأمر البطلان ہے خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ عقول سلیمہ توحید کی طرف مائل ہو گئی ہیں اور ہر ایک طرف سے تنزیہہ الہی کی ہوا چل رہی ہے اور مشرکوں کے بازار کسمپرسوں کا مصداق ہو گئے ہیں۔ مگر اب یہ کہاں ممکن ہے کہ وہ لوگ ان عقائد کو ان کے شائع ہونے کے بعد پوشیدہ کر سکیں کیا وہ ایسے امر کو پوشیدہ کر سکتے ہیں جو ملکوں اور زمینوں میں مشہور ہو گیا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے طیبات کو خبیثات کے ساتھ بدل ڈالا اور بدیوں کی طرف دوڑے اور اپنی لغزشوں کو پوشیدہ کرنے اور خرافات کی تاویل میں خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے اس شخص کی جو نجاست کھایا کرتا تھا اور ایک مدت سے اس کا یہی کام تھا اور اس نجاست کو اغذیہ لطیفہ جدیدہ میں سے سمجھتا تھا اور اس بات سے خبردار نہیں تھا کہ یہ تو پلیدی اور گوہ ہے نہ کہ انسانوں کی غذا۔ پس ایک شخص ایسا اس کو ملا جو باریک بین اور پاک طبع تھا اور نیز زیرک اور ظریف بھی تھا پس اس پاک طبع نے اس شخص کو دیکھا جو گوہ کھا رہا ہے تب اس نے اس کو ایسی سرزنش کی جیسے کہ ایک حاکم ظالم کو سرزنش کرتا ہے اور کہا کہ ایسا مت کر کیا تو گوہ کھاتا ہے اے خبیثوں کے گوہ۔ پس وہ شرمندہ ہوا اور اپنے دل میں سوچنے لگا کہ اس ملامت کے داغ کو کیونکر دور کروں اور اس ندامت کے عیب سے کیونکر نجات پاؤں پس اس نے ان لوگوں کی طرح جو تکلف سے اپنے شور آب کو عمدہ اور میٹھا پانی ظاہر کرنا چاہتے ہیں ایک جواب گھڑا اور کہا کہ میں گوہ نہیں کھاتا اور نہ اس کو اکٹھا کرتا ہوں سو میں کسی کے ڈرانے کی پرواہ نہیں رکھتا اور میں نے اس امر کی طرف جو اکبر المکروہات ہے ہر گز پیش قدمی نہیں کی اور یہ صرف ایک دروغ گو بہتان تراش کی تہمت ہے اور میں اس سے بری ہوں۔ اور دشمن معترض نے حقیقت کو نہیں سمجھا اور جلدی کی اور طریقہ کو بھول گیا کیونکہ میں ان اجزاء غذائیہ کو کھاتا ہوں جو ہضم معدے سے باذن خالق الاشياء الگ ہوتی ہیں اور پھر طبیعت ان کو بعض امعاء کی طرف رد کرتی ہے پس وہ فضلات مبرز معلوم سے نکلتے ہیں اور تھوڑا سا صفراء ان کے ساتھ ہوتا ہے پس یہ تو اور چیز ہے گوہ نہیں ہے جیسا کہ دشمنوں نے خیال کیا ہے۔ بلکہ یہ تو ایک غذا ہے جو ہمارے جیسے پاکوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔