The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 566

The Light of Truth — Page 282

282 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وأما قول المعرض الفتان أن ذى مرة اسم الشيطان، وقال أن المرة هي مادة الصفراء، وباطل كل ما يخالفه من الآراء، فهذا كله كذب ودجل وتلبيس، ونعوذ بالله من الدجالين المفتنين. بل الأمر الصحيح الذي يوجد نظائره في كلمات بلغاء لسان العرب ونوابغ ذوى الأدب، أن أصل المرة إحكام الفتل وإدارة الخيوط عند الوصل، كما قال صاحب تاج العروس شارح القاموس، ثم نقلوا هذا اللفظ من الإحكام والإدارة إلى نتيجته أعنى إلى القوة والطاقة، فإن الحبل إذا أُحكِمَ فَتْلُه فلا بد من أن يتقوى بعد أن يُشَدّ ويُسَوَّى، ويكون كشيء قوى متين. ثم نُقِلَ منه إلى العقل كنقل الحقل إلى الحقل، لأن العقل طاقة تحصل بعد إمرار مقدمات وإحكام مشاهدات تُجَلِّيها الحس المشترك من الحواس بإذن ربّ الناس وأحسن الخالقين. ثم نقل هذا اللفظ في المرتبة الرابعة إلى مزاج من الأمزجة أعنى الصفراء التي هي إحدى الطبائع الأربعة لشدة قوتها ولطافة مادتها، ولكونها مصدر مگر معترض فتنه انگیز کا یہ قول کہ ذی مرة شیطان کا نام ہے اور جو اس نے کہا کہ مرہ مادہ صفرا کو کہتے ہیں اور اس کے برخلاف ہر ایک رائے باطل ہے پس یہ اس کا تمام کذب اور دجل اور تلبیں ہے اور دجالوں اور فتنہ انگیزوں سے خدا کی پناہ بلکہ وہ امر صحیح جس کی نظیریں اہل زبان کے بلیغنوں اور فصیحوں کے کلمات میں پائی جاتی ہیں یہ ہے کہ تاگہ کو جب بٹ دے کر پختہ کرتے ہیں تو اس پختہ کرنے کا نام مرہ ہے اور مرہ کے معنوں کا اصل یہ ہے کہ اسقدر تاگہ کو بٹ چڑھایا جائے اور مروڑا جائے کہ وہ پختہ ہو جائے جیسا کہ یہی معنے صاحب تاج العروس شارح القاموس نے کئے ہیں پھر اس لفظ کو مروڑنے اور بٹ چڑھانے سے منتقل کر کے اس کے نتیجہ کی طرف لے آئے یعنی قوت اور طاقت کی طرف جو بٹ چڑھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب تاگہ کو بٹ چڑھایا جاوے پس یہ ضروری امر ہے کہ بٹ چڑھانے کے بعد اس میں قوت اور طاقت پیدا ہو جائے اور ایک شے قوی متین ہو جائے۔ پھر یہ لفظ عقل کے معنوں کی طرف منتقل کیا گیا جیسا کہ حقل کا لفظ جو بمعنی زمین خوش پاکیزہ ہے حقل یعنی کھیت نوسبزہ کی طرف منتقل ہو گیا کیونکہ عقل بھی ایک طاقت ہے جو بعد محکم کرنے مقدمات اور پختہ کرنے مشاہدات کے پیدا ہوتی ہے اور حس مشترک ان مشاہدات کو حواس سے باذن رب الناس لیتی ہے۔ پھر یہ لفظ بمر تبہ رابعہ ایک بدنی مزاج کی طرف منتقل کیا گیا یعنی صفرا کی طرف جو طبائع اربعہ میں سے ایک ہے کیونکہ صفرا