The Light of Truth — Page 274
274 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وأشهد الأحرار والأسارى، أنى أضع البركة واللعنة أمام النصارى، أما البركة فينالهم بركة الدنيا عند مقابلة الكتاب وينالون إنعاما كثيرًا مع الفتح والغلاب، أو ينالهم بركة الآخرة عند التوبة وترك توهين القرآن وترك صفة السرحان، وأما اللعنة فلا يرد عليهم إلا عند إعراضهم عن الجواب، ومع ذلك عدم امتناعهم عن الشتم والسب والقدح فى كتاب رب الأرباب رب العالمين. واعلم أن كل من هو مِن وُلْدِ الحلال، وليس من ذرية البغايا ونسل الدجال، فيفعل أمرًا من أمرين إما كف اللسان بعد وترك الافتراء والمين، وإما تأليف الرسالة كرسالتنا وترصيع المقالة كمقالتنا، ولكن الذى ما ازدجر من القدح في بلاغة القرآن، وما امتنع من الإنكار من فصاحة الفرقان، فعليه كل ما قلنا وكتبنا في هذا القرطاس، وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين. فَلْيَقُلْ القَوْمُ كلُّهم آمین آمین آمین. اور میں آزادوں اور قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں آج برکت اور لعنت نصاریٰ کے آگے رکھتا ہوں برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کو حاصل ہو گی اور وہ بہت سا انعام مع فتح اور غلبہ کے پائیں گے یا برکت سے مراد آخرت کی برکت ہے کہ توبہ اور ترک توہین قرآن سے ان کو ملے گی مگر لعنت ان پر صرف اس حالت میں وارد ہو گی کہ جب بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اور باوجود اس کے قرآن شریف کی توہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آئیں۔ اور جانا چاہیے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے درو نگوئی اور افتر اسے باز آجائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسار سالہ بنا کر پیش کرے گا مگر وہ شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسار سالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی جرح قدح سے باز آیا اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیجا کرنے سے اپنے تئیں روکا پس اس پر وہ سب باتیں وارد ہوں گی جو ہم اس رسالہ میں کہہ چکے ہیں اور اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت اور نیز اس کے تمام فرشتوں اور آدمیوں کی ہے۔ پس چاہیے کہ ساری قوم کہے آمین آمین آمین