The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 566

The Light of Truth — Page 234

234 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ☆ الحاشيه متعلق صفحة ۱۰۵ نور الحق الحصة الأولى و انا نرى ان نكتب ههنا بعض المقالات اهل الأراء وأراء اهل الدهاء في تصانيف عماد الدين فنكتبها بعباراتهم الاصلية في اللسان الهندية اعنى اُردو ناقلين من رسالة عقوبة الضالين المطبوعة في نصرة المطابع دهلي في ردّ هداية المسلمين وهو هذا يا معشر المنصفين اور ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس جگہ بعض اہل الرائے کے وہ کلمات لکھیں جو انہوں نے پادری عماد الدین کی تصانیف کے بارے میں تحریر فرمائے ہیں سو ہم انہیں کی عبارات نقل کر دیتے ہیں جو رسالہ عقوبة الضالين مطبوعہ نصرۃ المطابع دہلی میں درج ہیں اور عقوبة الضالین وہ رسالہ ہے جو ایک صاحب نے رد ہدایت المسلمین میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے:۔ رائے ہند و پر کاش امر تسر و آفتاب پنجاب لاہور کہ ان دونوں اخباروں کے مالک اہل ہنود ہیں چونکہ پادری عماد الدین صاحب امر تسر میں پادری کا کام کرتے ہیں وہیں کے اخبار ہند و پرکاش جلد ۲ نمبر ۴ مطبوعہ ۱۲۔ اکتوبر ۱۸۷۴ء صفحہ ۱۰ و ۱۱ میں جو امرت سر کے اہل ہنود کی طرف سے جاری ہے لکھا ہے کہ کیا پادری عماد الدین کی تصنیفات تاریخ محمدی وغیرہ وغیرہ سے مراد ہدایة المسلمين) کچھ اُس کتاب سے شورش انگیزی میں کم تر تھیں کہ جس نے بمبئی کے مسلمانوں اور پارسیوں کے صد با سالہ اتفاق اور محبت کو نفاق اور عداوت سے مبدل کر دیا اور دونوں کو یکلخت ہلاکت کا منہ دکھایا یہاں پادری صاحب کی تصانیف یعنی تاریخ محمدی اور ہدایۃ المسلمین اور تفسیر مکاشفات امن عامہ کی خلل اندازی میں کس لئے ناکام رہیں پنجابی مسلمان مفلس کم ہمت اور اکثر جاہل ہیں یا وہ اُن کو سمجھتے نہیں اور صرف مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علت غائی پر تصنیف کی گئی ہیں۔ اگر بفرض محال وہ سارے الزامات سچے بھی سمجھے جاویں تاہم بے چارے پادری صاحب کے کام تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے اعتراض سے محفوظ نہیں کیونکہ اس میں ہر ایسے فعل کار فاہ عامہ کی نیت سے ہونا مستثنیٰ کے لئے مشروط ہے۔ مندرجہ بالا فقرے ہم نے اخبار آفتاب پنجاب جلد ۲ نمبر ۳۹ سے انتخاب کئے ہیں جس بنا پر اخبار مذکور کے ایڈیٹر صاحب نے وہ تمام مضمون لکھا ہے ہم اس سے صرف مقتبس فقروں کی نسبت اپنا اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور جو شکایت صاحب موصوف پادری عماد الدین کی تصنیفات کے بارہ میں کرتے ہیں بلحاظ ملکی مصلحتوں کے ہم اتنازیادہ کہتے ہیں کہ اس کی تصنیفات سے جس کا حوالہ اوپر درج ہے بلاشبہ ملکی امن میں خلل پڑ سکتا ہے اور وہ کچھ عجیب ڈھنگ سے مرتب ہوئی ہیں کہ جن کو فی الجملہ شرارت انگیز بلکہ شرر خیز کہنا ذرا بھی غیر حق بات نہیں۔ ایسے ایسے ملکی شور وشر کے حق میں جو اس قسم کی کتابوں سے پیدا ہوتا ہے بقول وقائع نگار موصوف کے سرکار کی طرف سے مناسب انتظام لا بد ہے۔ ہم بتلا سکتے ہیں کہ دانشمند گورنمنٹ نے اس طرح کے معاملات میں دخل دیا ہے۔ چنانچہ اسی ہندوستان کے اندر لارڈ ولزلے صاحب سابق گورنر جنرل نے ۱۷۹۸ء میں ہندوؤں کی رسم جل پر واکو حکماً بند کر دیا اور ۱۸۲۷ء کے اندر لارڈ ولیم بیٹنگ صاحب گورنر جنرل نے ستی کی قدیم رسم کو قانون مرتب کر کے موقوف کروادیا۔ گورنمنٹ اس بات کو معلوم کر لے کہ کیوں ہندوستان کے مسیحی مصنفوں میں دیکھو صفحه ۲۳۲