The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 566

The Light of Truth — Page 230

230 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الخوف والطاعة، فتفكروا في هذا ولا تمشوا كقوم عمين . ثم إذا دققت النظر اوأمعنت فيما حضر، فيظهر عليك أن قوله تعالى روح منه يشابه قوله تعالى جميعًا منه، فمن الغباوة أن تُثبت من لفظ رُوح مِنْهُ ألوهية عيسى، ولا تُقرّ من لفظ جميعًا منه بألوهية أرواح الكلاب والقردة والخنازير وأشياء أخرى، فإن منطوق الآية يشهد على أنها جميعا منه، فمت من الندامة إن كنت من المستحيين وتفكروا يا معشر النصارى أليس فيكم رجل من المتفكرين؟ وليس لك أن ترفع في جوابنا الصوت وأن تلاقى من فكرك الموت، فإن مثل الكاذب كخُذْرُوفٍ مُدَخرج ولا قرار له عند الصادقين. ومن اعتراضات هذا الخائن الضنين أنه ذكر فى توزينه الذى هو عُشُ الشياطين، أن وحى القرآن كان من الشيطان، وما كان من الروح الأمين، وأوَّلَ لفظ شَدِيدُ الْقُوَى ولفظ ذُو مِرَّة بالخُبث واتباع الهوى وبتأويلات بعيدة ومكائد عُظمى، وآذى قلوب المؤمنين، وكذلك ترك الحياء، ووَدَّعَ الازعواء، وحسب أفضل الرسل كالمجنون، وتباعد عن الحق تباعُد الضب من النون، وعادى المصلحين اللامين. واعترض على فصاحة صحف الله القرآن وبلاغة حبل الله الفرقان، ظلما وزورا، کہ وحی قرآن شیطان کی طرف سے تھی اور روح الامین کی طرف سے نہیں تھی اور شَدِیدُ الْقُوی اور ذُو مِرَّةٍ کے لفظ کی اس نے ہوا پرستی کی وجہ سے تاویل کی ہے اور تاویلات بعیدہ اور فریبوں سے کچھ کا کچھ بنایا ہے اور مومنوں کے دل کو دکھ دیا ہے۔ اسی طرح رح اس نے حیا کو ترک کیا اور شرم کو رخصت کیا اور افضل الرسل کی نسبت یہ گمان کیا کہ نعوذ باللہ ان کو جن کا آسیب تھا۔ اور حق سے ایسا دور جا پڑا جیسا کہ سوسمار جو خشک زمین میں رہتی ہے مچھلی سے جو پانی میں رہتی ہے دور رہتی ہے اور نیک کاموں کے حامی مصلحوں کی دشمنی اختیار کی اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت پر اعتراض کیا تا ان باتوں سے ایک ہلاک شدہ قوم کو خوش کرے حالانکہ یہ شخص جاہل اور اندھوں کی طرح ہے اور بخدا یہ شخص سراسر نادان اور زبان عرب سے کچھ بھی واقف نہیں اور سو از بان درازی کے اس میں کچھ بھی جو ہر نہیں اس لئے اس کی کتابوں میں بغیر گالیاں اور بکو اس کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ تو اس سے نہ ہو سکا کہ حق کو پوشیدہ اور اس میں کچھ نقص ثابت کرے پس وہ لاچار ہو کر دشمنوں کی طرح توہین کی طرف دوڑا اور ہم نے کوئی ایسی کتاب نہیں پڑھی جو اس کی کتاب سے زیادہ غصہ دلانے والی ہو اور نہ کوئی سیلاب دیکھا جو اس کے جھوٹ سے زیادہ ہو اور اس کی گالیوں جیسی کسی کی گالیاں نہیں سنیں اور اس کے فریبوں جیسا کسی میں فریب نہ دیکھا۔ پس اس کے فتنہ سے ہم خدا تعالیٰ کی طرف پناہ لے جاتے ہیں اور وہ سب سے بہتر مدد گار ہے اور اس شخص کی بلاؤں سے ہم اس کی پناہ مانگتے ہیں اور اس کی بدیوں سے ہم اس کی طرف شکوہ لے جاتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ یہ شخص بغیر کسی داغ کے اپنی گمراہی سے باز آجائے۔ اور مفسدوں کی یہی خصلت ہوا کرتی ہے۔