The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 566

The Light of Truth — Page 228

228 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE آدم أول أبناء ربّ العالمين؛ فإن في شأن آدم بيان أكبر من شأن عيسى، فتفكر في آية فَقَعُوا لَهُ سجدِينَ وتدبر كأولى النهى، وفكّر في لفظ خلقتُ بيدى ولفظ سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي وألفاظ أخرى، ليظهر عليك جلالة آدم وشأنه الأعلى. فإن منطوق الآية يدل على أن روح الله نزل في آدم بنزول أجلى، حتى جعله مسجود الملائكة ومظهر تجليات وأقرب إلى الله الأغنى، وأعلم وأفضل من الملائكة أجمعين، وخليفة الله على الأرضين. وأما الآية التي نزلت في شأن عيسى فما تجعله أرفع وأعلى ولا أصفى وأزكى، بل يثبت منه أن عيسى روح من الله وعبده العاجز كأشياء أخرى ومن المخلوقين. ما سجده إبليس، بل أمره أن يسجد له، ومع ذلك جربه ذلك الخبيث، وسجد لآدم الملائكة كلهم أجمعين. وإنّ آدم أنبأ الملائكة بأسماء سائر الأشياء، فثبت أنه أعلم وسره محيط على الأرض والسماء، ولكن عيسى أقر بأنه لا يعلم الساعة، وأشار إلى أن الملائكة قد فاقوه علما وأكملوا 1. الحجر : ٣٠ الناشر . الحجر : ٣٠ الناشر اور خدا تعالیٰ کا خلیفہ بنا مگر وہ آیت جو حضرت عیسی کی شان میں نازل ہوئی ہے سو وہ اس کو کچھ بہت اونچا نہیں بناتی اور نہ زیادہ پاک اور صاف بناتی ہے بلکہ اس سے تو صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روح ہیں جیسا کہ دوسری چیزیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ مخلوق ہے شیطان نے اس کو سجدہ نہ کیا بلکہ چاہا کہ وہ شیطان کو سجدہ کرے اور اس کا امتحان لیا اور آدم کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اور آدم نے فرشتوں کو تمام چیزوں کے نام بتلائے پس ثابت ہوا کہ وہ ان سے زیادہ عالم تھا اور اس کا سر تمام کائنات پر محیط تھا مگر حضرت عیسی نے تو اقرار کیا کہ اس کو قیامت کا علم نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی اشارہ کیا کہ ملائک اس سے علم اور طاعت میں افضل ہیں سو اس بات کو سوچو اور اندھوں کی طرح مت چلو پھر اگر تو غور سے دیکھے اور واقعات موجودہ میں غور کرے تو تیرے پر ظاہر ہو گا کہ اللہ جل شانہ کا یہ قول کہ روح منہ ایسا ہی قول ہے جیسا کہ اس کا دوسرا قول سو بڑی نادانی کی بات ہے کہ رُوح مِنْهُ کے لفظ سے حضرت عیسی کی خدائی تو ثابت کرے جَمِيعًا مِنْهُ کے لفظ سے کتوں اور بلیوں اور سؤروں اور دوسری تمام چیزوں کی خدائی کا اقرار نہ کرے کہ خدائی کا اقرار نہ کرے کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کر رہا ہے کہ ہر ایک چیز جَمِيعًا مِنْہ میں داخل ہے یعنی تمام ارواح وغیرہ خدا سے ہی نکلے ہیں پس اب ندامت سے مر جا اگر کچھ شرم ہے اور اسے نصرانی لوگو ! اس میں غور کرو کیا تم میں کوئی بھی غور کرنے والا نہیں ہے اور کبھی ممکن نہیں جو تو ہمارا جواب دے سکے اگر چہ اسی فکر میں مر جائے کیونکہ جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے اور سچوں کے سامنے اس کو قرار نہیں۔ اور اور اس بخیل خیانت پیشہ کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے جو وہ اپنی کتاب توزین میں جو شیاطین کا آشیانہ ہے یہ لکھتا ہے