The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 566

The Light of Truth — Page 160

160 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE فخرجت من أفواههم كلمات فى مقام الفناء النظرى والجذبات السماوى، و ورد عليهم وارد فكانوا من الوالهين؛ فقال بعضهم ما في جبتى إلا الله، وقال بعضهم إن يدى هذه يد الله، وقال بعضهم أنا وجه الله الذي وجهتم إليه، وأنا جنب الله الذى فرطتم فيه، وقال بعضهم أنا أقول وأنا أسمع، فهل في الدار غيري، وقال بعضهم أنا الحق فهؤلاء كلهم معفوون، فإنهم نطقوا من غلبة كمال المحوية والانكسار، لا من الرعونة والاستكبار، وحقت بهم سكر صهباء العشق وجذبات الحب المختار، فخرجت هذه الأصوات من خوخة الفناء لا من غرفة الخيلاء وما نقلوا الأقدام إلى دون الله بل فنوا في حضرة الكبرياء ، فلا شك أنهم غير ملومين. ولا يجوز اتباع كلماتهم وحرص مضاهاتهم، بل هي كلم يجب أن تُطوى لا أن تُروى، ولا يؤاخذ الله إلا الذين كانوا من المتعمدين المجترئين. وعجبت للنصارى ولا عَجَبَ من المسرفين، أنهم يقرون بأن عيسى كان عبد الله وابن آدم، وكان يقول إنى رسول الله وعبده، وحث الناس على التوحيد والاجتناب من الشرك، وانكسر وتواضع وقال اور جذب سماوی کے وقت میں ان کے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئیں اور بعض واردات ان پر ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بے ہوشوں کی طرح ہو گئے سو بعض نے اس مستی کی حالت میں کہا کہ میرے جبہ میں خدا ہی ہے اور کوئی نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا یہ ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی وجہ اللہ ہوں جس کی طرف تم نے منہ کیا اور میں ہی جنب اللہ ہوں جس کے حق میں تم نے تقصیر کی اور بعض نے کہا کہ میں ہی کہتا ہوں اور میں ہی سنتا ہوں اور میرے سوا اور گھر میں کون ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی حق ہوں سو یہ تمام لوگ مرفوع القلم ہیں کیونکہ وہ کمال محویت سے بولے ہیں نہ رعونت اور تکبر سے اور شراب عشق کے نشہ اور دوست برگزیدہ کے جذبات نے ان کو گھیر لیا سو یہ آوازیں فنا کی کھڑکی سے نکلیں نہ تکبر کے بالا خانہ سے اور دون اللہ کی طرف انہوں نے قدم نہیں اٹھایا بلکہ حضرت کبریا میں فنا ہو گئے سو کچھ شک نہیں کہ ان پر ان کلمات سے کوئی ملامت نہیں۔ اور ان کے ان کلمات کی پیروی جائز نہیں اور نہ یہ روا ہے کہ ان کی مشابہت کی خواہش کی جائے بلکہ یہ ایسے کلمے ہیں کہ لیٹنے کے لائق ہیں نہ اظہار کے لائق اور خدا تعالیٰ انہیں سے مواخذہ کرتا ہے جو عمداً چالاکی سے ایسے کلمے منہ پر لاویں۔ اور مجھے عیسائیوں سے تعجب آتا ہے اور جو زیادتی کرے اس پر کچھ تعجب بھی نہیں وہ اقرار کرتے ہیں کہ عیسیٰ خدا کا بندہ اور ابن آدم تھا اور کہا کرتا تھا کہ میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور توحید کے لئے رغبت دیتا تھا اور شرک سے ڈراتا تھا اور کسر نفسی اس میں اتنی تھی کہ اس نے کہا کہ مجھے نیک مت کہو پھر یہ