The Light of Truth — Page 156
THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE 156 يعطى هذا المقام المحمود إلا نبيه وصفيه محمدان المصطفى خير الرسل وخاتم النبيين. وأُلقي في روعي أن المراد من لفظ الروح فى آية يَوْمَ يَقُومُ يَقُومُ الرُّوحُ الرُّ جماعة الرسل الرسل والنبيين والمحدثين أجمعين الذين يُلقى الروح عليهم ويُجعلون مكلَّمين. وأما ذكرهم بلفظ الروح لا بلفظ الأرواح، فاعلم أنه قد يُذكر الواحد في القرآن ويراد منه الجمع وبالعكس، سنّةٌ قد جرث في كتاب مبين. وذكرهم الله بلفظ الروح الذى يدل على الانقطاع من الجسم ليشير إلى أنهم فى عيشتهم الدنيوية كانوا قد فنوا بكل قواهم في مرضاة الله، وخرجوا من أنفسهم كما يخرج الأرواح من الأبدان، وما بقى لهم النفس وأهواءها وكانوا لا ينطقون من الهوى بل بوحي يوحى، فكأنهم صاروا روح القدس فقط لا نفس معه ولا أعراضها . ثم اعلم أن الأنبياء كنفس واحدة، لا يقال إنهم أرواح بل يقال إنهم روح، وذلك لشدة اتحادهم الروحانية وتناسب جوهرهم الإيمانية، وبما أنهم فنوا من أنفسهم وحركاتهم وسكناتهم ١. النبا : ٣٩ الناشر کے ہم کلام ہوتے ہیں مگر یہ شبہ کہ روح کے لفظ سے ان کو یاد کیا ارواح کے لفظ سے کیوں یاد نہیں کیا۔ پس جان کہ قرآن کا محاورہ ایسا ہے کہ کبھی وہ واحد کے لفظ سے جمع مراد لے لیتا ہے اور کبھی جمع سے واحد ارادہ رکھتا ہے یہ قرآن شریف کی ایک عادت مستمرہ ہے۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو روح کے لفظ سے یاد کیا یعنی ایسے لفظ سے جو انقطاع من الجسم پر دلالت کرتا ہے ۔ اہے یہ اس لئے کیا کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ مطہر لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی تمام قوتوں کی رو سے مرضات الہی میں فنا ہو گئے تھے اور اپنے نفسوں سے ایسے باہر آگئے تھے جیسے کہ روح بدن سے باہر آتی ہے اور نہ ان کا نفس اور نہ اس نفس کی خواہشیں باقی رہی تھیں اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے تھے نہ اپنی خواہش سے اور گویا وہ روح القدس ہی ہو گئے تھے جس کے ساتھ نفس کی آمیزش نہیں پھر جان کہ انبیاء ایک ہی جان کی طرح ہیں۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کئی روح ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ وہ ایک ہی روح ہے اور یہ اس لئے کہ ان میں روحانی طور پر نہایت درجہ پر اتحاد واقع ہے اور جو ہر ایمانی کی ان میں مناسبت غایت مرتبہ پر ہے اور نیز اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اپنی جنبش اور اپنے سکون اور اپنی خواہشوں اور اپنے جذبات سے بکلی فنا ہو گئے اور ان میں بجز روح القدس کے کچھ باقی نہ رہا اور سب چیزوں سے توڑ کے اور قطع تعلق کر کے خدا کو جا ملے پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس آیت میں ان کے تجرد اور تقدس کے مقام کو ظاہر کرے اور بیان کرے کہ وہ جسم اور نفس کے میلوں سے کیسے دور ہیں پس ان