The Light of Truth — Page 152
THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE 152 ومن اعتراضات الواشى الضال، الذي ينوم بنعاس الضلال، اعتراض بنى عليه عقيدته الباطلة في في القرآن الكريم آية يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ ، فَتَلقَّفَ لفظ كتابه التوزين. وتفصيله أنه رأى في الروح كالشحيح، وأراد أن يستنبط منه نزول المسيح، بل أن يثبت ألوهيته كالوقيح، فكتبه مستدلا كالمبطلين الفرحين. أما الجواب فاعلم أن هذه الآية لا تفيده أصلا ولا يثبت منها شيء إلا حمقه وجهله وكونه من السفهاء المستعجلين. ولا يخفى على الفضلاء الأعلام أن تأويل الروح بعيسى في هذا المقام دجل وافتراء ، بل جاء في كتب التفسير أنه جبرائيل عليه السلام، أو ملك آخر على اختلاف الروايات كما لا يخفى على الناظرين. ثم منطوق الآية يبدى بالتصريح ويحكم بالتنقيح أن هذه 1. سورة النباء : ٣٩ الناشر اور یہ گمراہ نکتہ چین جو خواب ضلالت میں سوتا ہے اس کے اعتراضات میں سے ایک وہ اعتراض ہے جس کو اس نے اپنی کتاب توزین الاقوال میں اپنے عقیدہ باطلہ کی بنیاد ٹھہرایا ہے اور تفصیل اعتراض یہ ہے کہ اس نے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کو دیکھا جو يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ ہے ان ۔ سو اس نے لفظ روح کو اس جگہ سے اچک لیا جیسے ایک حریص ایک چیز کو اچک لیتا ہے اور چاہا کہ اس سے نزول مسیح پر دلیل قائم کرے بلکہ بے حیائی کی وجہ سے یہ بھی چاہا کہ اس سے حضرت مسیح کی الوہیت ثابت ہو جائے پس اس نے استدلال کے خیال سے باطل پرستوں کی طرح بہت خوش ہو کر اس آیت کو لکھا۔ اب اس کے جواب میں سمجھ کہ یہ آیت اس شخص کو کچھ بھی مفید نہیں اور اگر اس سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ یہ شخص احمق اور نادان اور سفیہ اور جلد باز ہے اور مشاہیر علماء پر پوشیدہ نہیں کہ اس مقام میں روح کے لفظ سے عیسیٰ مراد لینا دجالیت اور افترا ہے بلکہ تفسیروں کی رو سے وہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشتہ ہے اور دونوں قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پھر منطوق آیت کا بتصریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے اور اس کے لئے علامت کی طرح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو بہشت کے ذکر کے درمیان لکھا ہے اور اس کی نعمتوں کے بیان کرنے کے وقت اس کو بیان فرمایا ہے اور پھر اور بھی تصریح کر کے فرمایا ہے کہ یہ وہی حق کے کھلنے کا دن ہے اور الیوم الحق قرآن میں قیامت کا نام ہے چنانچہ واقف کار امانت دار اس کو جانتا ہے پس اب غور کر کہ کیونکر خدا