The Light of Truth — Page 98
98 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE السماوية التي ما صنعها أيدى الإنسان، بل أعطيت من يد الله الرحمن ونزلت من السماء لا من أعمال أهل الأرضين. فالحاصل أن اعتقادنا هو هذا ، لا كما فهم الواشى الغبي والنمام الدني، فإنه خطأ فاحش عندنا، ونخطى قائل تلك الأقوال، وقد أخطأ من قال ووقع في ضلال مبين. فالحق الذي أرانا الحق الحكيم وأنبأنا اللطيف العليم، هو أن حربة المسيح الموعود سماوية لا أرضية، ومحارباته كلها بأنظار روحانية، لا بأسلحة جسمانية، وهو يقتل الأعداء بعقد النظر والهمة، أعنى بتصرف الباطن وإتمام الحجة، لا بالسهام والرماح والمَشْرَفيّة، وله ملكوت السماء لا ملكوت الأرضين. وأما الذين ينتظرون مسيحا يأتى بالجنود ويخرج كالأسود، ويقتل كل من لم يؤمن من الكافرين، وينزل كصاعقة محرقة من السماء، ولا يكون له شغل من غير سفك الدماء، ويكون حريصا على قتل نفس ولو كان خنزيرا، ويأخذ السيف البتار قبل أن يتم حجّته على المنكرين، فنحن لسنا منهم ولا نعرف ذلك المسيح ولا نعلم ولا ندرى أثرا من تلك الأباطيل في كتاب الله المبين. فلا نقبل هذه العقيدة أبدًا، ولسنا من الذين يقرون به مقلّدين كالعمين. فالحاصل أنه ليس من عقائدنا، بل إنما هو من عقائد شيخ بطالوى صاحب الإشاعة مضل الجماعة، أعنى محمد حسين وأمثاله الذين هم فلاح تلك الزراعة. لڑائیاں اس کی روحانی نظروں کے ساتھ ہیں نہ جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ اور وہ دشمنوں کو نظر اور ہمت سے قتل کرے گا یعنی تصرف باطن اور اتمام حجت کے ساتھ نہ تیر اور نیزہ اور تلوار سے اور اس کی آسمانی بادشاہت ہے نہ زمینی۔ اور وہ لوگ جو ایک مسیح کی انتظار کرتے ہیں جو لشکروں کے ساتھ آئے گا اور ہر یک کافر کو جو ایمان نہ لاوے قتل کر دے گا اور آسمان سے ایک جلانے والی بجلی کی طرح نازل ہو گا اور بجز خونریزی کے اس کا کوئی اور شغل نہ ہو گا اور وہ قتل کرنے پر بڑا حریص ہو گا اگرچہ خنزیر ہی ہو اور قبل اس کے جو اپنی حجت منکروں پر پوری کرے آتے ہی تلوار پکڑ لے گا۔ سو ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں اور ہم ایسے مسیح کو نہیں پہچانتے اور ہم خدا تعالیٰ کی کلام میں ان عقائد کا کچھ بھی نشان نہیں پاتے اور ہم ایسے نہیں کہ ان باتوں کو ایک اندھے مقلد کی طرح مان لیں۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہ باتیں ہمارے عقائد میں سے نہیں ہیں بلکہ یہ شیخ بٹالوی کے عقائد ہیں جو صاحب اشاعۃ اور مضل جماعت ہے اور ایسا ہی اس کے ہم خیالوں کا جو اس کھیتی کے بونے والے ہیں یہی عقیدہ ہے پس خلاصہ کلام یہ کہ یہ انہیں کا مسلک ہے جس پر وہ چل رہے ہیں اور یہ انہیں کی رائیں ہیں جو تم دیکھتے ہو اور وہ ان خیالات پر خوب جمے ہوئے ہیں اور باز آنے والے اور رجوع کرنے والے نہیں ہیں بلکہ منبروں پر چڑھ چڑھ کر یہ خبریں بتلاتے ہیں اور ان کو یاد کر کے ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں اور ان کی نفسانی خواہشوں میں سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ان کا خیالی مسیح دنیا میں آوے اور تمام کافروں کو قتل کرے اور پھر بہت سے لوٹ کے مالوں سے بٹالوی اور اس کے بھائیوں کو مالدار کر دیوے مگر ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے بلکہ ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی