The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 566

The Light of Truth — Page 94

THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE 94 و أما نزول عيسى من السماء فقد أثبتنا بطلانه في كتابنا الحمامة، وخلاصته أنا لا نجد في القرآن شيئا فى هذا الباب من غير خبر وفاته الذى نجدها فى مقامات كثيرة من الفرقان الحميد. نعم جاء لفظ النزول في بعض الأحاديث، ولكنه لفظ قد كثر استعماله في لسان العرب على نزول المسافرين إذا نزلوا من بلدة ببلدة أو من ملك بملك متغربين والنزيل هو المسافر كما لا يخفى على العالمين. و أما لفظ التوفي الذي يوجد في القرآن في حق المسيح وغيره من بني آدم فلا سبيل فيه إلى تأويل أخرى بغير الإماتة، وأخذنا معناه من النبى ومن أجل الصحابة لا من عند أنفسنا . وأنت تعلم أن الإماتة أمر ثابت دائم داخل في سنن الله القديمة، وما من رسول إلا تُوفّى وقد خلت من قبل عيسى الرسل. فإذا تعارض لفظ التوفى ولفظ النزول . فإن سلمنا وفرضنا صحة الحديث فلا بد لنا أن نؤوّل لفظ النزول، فإنه ليس بموضوع لنزول رجل من السماء، بل وضع لنزول مسافر من أرض بأرض، فما كان لنا أن نترك معنى وضع له هذا اللفظ في لسان العرب ونرد بينات القرآن. وما نجد ذكر اس کے مسافروں کے حق میں ہے جب وہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں وارد ہوں اور یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کر کے آویں اور نزیل تو مسافر کو ہی کہتے ہیں جیسا کہ جاننے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ مگر توفی کا لفظ جو قرآن میں حضرت مسیح اور دوسروں کے حق میں پایا جاتا ہے سو اس میں بغیر معنے مارنے کے اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور یہ معنے مارنے کے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے بزرگ صحابہ سے لئے ہیں یہ نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑے ہیں اور تو جانتا ہے کہ مارنا ایک امر ثابت دائم الوقوع اور خدا تعالیٰ کی قدیم سنتوں میں داخل ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں جو فوت نہ ہوا ہو اور حضرت عیسی سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں اور جبکہ لفظ نزول اور لفظ توفی میں معارضہ واقع ہوا پس اگر ہم حدیث کی صحت کو قبول کر لیں تاہم ہمارے لئے ضروری ہے کہ نزول کے لفظ کی تاویل کریں کیونکہ وہ دراصل آسمان سے اترنے کے معنوں کے لئے موضوع نہیں ہے بلکہ وہ تو مسافروں کے نزول کے لئے وضع کیا گیا ہے سو یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ اصل موضوع له کو چھوڑ دیں اور قرآن کی بینات کو رد کریں اور ہم کسی حدیث صحیح میں آسمان کا لفظ بھی نہیں پاتے اور ہم اس نزول کی نظیر پہلی امتوں میں بھی نہیں پاتے ' بلکہ قصہ یوحنا میں اس کے خلاف پاتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ اس عقیدہ کو نہ ایک بیماری بلکہ کئی بیماریاں لگی ہوئی ہیں قرآن کی بینات کا مخالف ہے ختم نبوت کے امر کی تکذیب کرتا ہے اور قوم عرب کے محاورات ا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہلی کتابوں یعنی توریت اور صحف ابراہیم میں شواہد تعلیم قرآن موجود ہیں مگر ہم توریت میں حضرت عیسیٰ کے صعود اور نزول کا کچھ نشان نہیں پاتے اور نہ اس کی کوئی مثال پاتے ہیں حالانکہ توریت تمام مثالوں کے لئے امام ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس کا نام امام رکھا ہے۔