The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 566

The Light of Truth — Page 84

84 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE لا يأمر بحرب أحد إلا بالذين يمنعون عباد الله أن يؤمنوا به ويدخلوا في دينه ويطيعوه في جميع أحكامه ويعبدوه كما أمروا. والذين يقاتلون بغير الحق ويُخرجون المؤمنين من ديارهم وأوطانهم ويدخلون الخلق في دينهم جبرًا وقهرا، ويريدون أن يطفئوا نور الإسلام ويصدون الناس من أن يُسلموا، أولئك الذين غضب الله عليهم ووجب على المؤمنين أن يحاربوهم إن لم ينتهوا. فانظر هذه الدولة. أى فساد توجد فيها من هذه المفاسد ؟ أتمنعنا من صلواتنا وصومنا وحجنا وإشاعة مذهبنا؟ أو تقاتلنا في ديننا أو تخرجنا من أوطاننا؟ أو يجعل الناس نصارى ظلما وجبرًا؟ كلا بل إنها برية من كل هذه الإلزامات، بل هي لنا من المعينين. ثم انظر إلى أحكام علمنا القرآن للذين أحسنوا إلينا، وراعوا شؤوننا وكفلوا شجوننا، ومانونا وآوونا، بعدما كنا تائهين. أيمنعنا ربنا من أن نحسن إلى المحسنين ونشكر المنعمين؟ كلا بل القرآن يأمر بالقسط والعدل والإحسان والله يحب المقسطين. وقد قال في القرآن وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وما قال ولتكن منكم 1. آل عمران : ۱۰۵ الناشر جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں مگر اس گورنمنٹ کو دیکھو کہ کون سا فساد ان فسادوں میں سے ان میں پایا جاتا ہے کیا وہ ہمیں ہماری نماز اور روزہ اور حج اور اشاعت مذہب سے ہم کو منع کرتی ہے یا دین کے بارے میں ہم سے لڑتی ہے یا ہمیں ہمارے وطنوں سے نکالتی ہے یا لوگوں کو جبر اور ظلم سے عیسائی بناتی ہے ہر گز نہیں بلکہ وہ ہمارے لئے مدد گاروں میں سے ہیں ' پھر قرآن کے ان حکموں پر نظر ڈالو جن میں خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے جو ہم پر احسان کریں اور ہمارے کاموں کی رعایت رکھیں اور ہماری حاجات کے متکفل ہو جائیں اور ہمارے بوجھوں کو اٹھا لیں اور ہمیں پریشان گردی کے بعد اپنی پناہ میں لے آویں کیا خدا تعالیٰ ہم کو اس سے منع کرتا ہے کہ ہم نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کریں اور دلی نعمتوں کا شکر ادا کریں ہر گز نہیں بلکہ وہ تو انصاف اور عدل اور احسان کرنے کے لئے فرماتا ہے اور وہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور قرآن میں اس نے یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نیکی کی طرف بلاویں اور امر معروف اور نہی منکر کریں اور یہ نہیں کہا کہ تم میں سے لوگ ہمیشہ ایسے ہوتے رہیں کہ جو کافرون کو قتل کریں اور ان کو اپنے دین میں جبر اداخل کرتے رہیں اور اس نے یہ تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کرو اور یہ نہیں کہا کہ ان کو تلواروں سے قتل کر ڈالو۔ مگر اس حالت میں جبکہ وہ دین سے روکیں اور اسلام کا نور بجھانے کے لئے منصوبے برپا کریں اور دشمنوں کے مقام میں کھڑے ہو جائیں پس دیکھ تو سہی ہمارے پرورد گار نے جو تمام ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” ہے “ہونا چاہیے۔ ناشر