The Light of Truth — Page 78
ذكر بعض اعتراضات الواشى وردها منها قوله أن قسيسى هذا الزمان ليسوا بدجالين. ثم بعد ذلك حث الحكومة البرطانية على إيذائي، ويشير إلى أن هذا الرجل يعتقد أن هذه الدولة هى الدجال المعهود وأنه من الباغين. أما الجواب فاعلم أننا لا نسمى الدولة البريطانية دجالا معهودا، بل نعلم ونستيقن أن هذه الدولة محققة عاقلة مفكرة في حقائق الموجودات، وقد رزقها الله من العلم والحكمة والفلسفة وأنواع الصناعات، وحقت بها لمعات المعقولات، فهى تعرف الترهات، وتفضّ خَتَمَ سرّ المزوّرات، وليست من الذين يرضون بالهذيانات. فكيف يمكن أن تؤمن بهذه الخرافات، بل تحسبها كسمر لا أصل له أو كطيف مركب من الخزعبلات، ومع ذلك لا ميل لها أصلاً إلى الدينيات. وفتن قلبها حب الدنيا وشوق الحكومات، فهي غريقة في دنياها من الرأس إلى القدم فى كل الخطوات، ولا تميل إلى دين، وإذا مالت فإلى الإسلام، فلا تقبل إلا هذا الدين وملة خاتم النبيين. نکتہ چین مذکور کے بعض اعتراضات کا ذکر اور اُن کا رد ان میں سے ایک یہ اس کا قول ہے کہ اس زمانہ کے پادری دجال نہیں پھر اس کے بعد اس نے گورنمنٹ برطانیہ کو میرے ایزا کے لئے ترغیب دی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس شخص کا یہ اعتقاد ہے کہ یہی گورنمنٹ دجال معہود ہے اور یہ شخص باغی ہے۔ سو اس کے جواب میں جاننا چاہیئے کہ ہم اس گورنمنٹ کا نام دجال نہیں رکھتے بلکہ ہم یقین رکھتے اور جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ عقلمند اور محقق اور حقائق موجودات میں فکر کرنے والی ہے اور خدا نے اس کو علم اور حکمت اور فلسفہ اور کئی قسم کی صناعتوں سے حصہ دیا ہے اور علم معقول کی چمکیں اس کے محیط ہو گئی ہیں پس اسی وجہ سے یہ گورنمنٹ جھوٹی باتوں کو خوب پہچانتی اور جھوٹ کے سربستہ راز کی مہر توڑتی ہے اور ان میں سے نہیں جو بے ہودہ باتوں پر راضی ہو جائیں پس کیونکر ممکن ہے کہ یہ گور نمنٹ ایسی باتوں پر ایمان لاوے بلکہ یہ تو اس کو ایک بے اصل کہانی سمجھتی ہے اور ایک خواب پریشان کی طرح اباطیل کا مجموعہ خیال کرتی ہے اور علاوہ اس کے اس گورنمنٹ کو دینیات کی طرف کچھ توجہ نہیں اور دنیا کی محبت اور حکومتوں نے اس کے دل کو اپنی طرف کھینچا ہوا ہے سو وہ سر سے قدم تک دنیا میں غرق ہے اور کسی دین کی طرف اس کو میل نہیں اور اگر کسی وقت میل ہو گی تو اسلام کی طرف اور صرف دین اسلام کو قبول کرے گی اور ملت خاتم النبیین میں داخل ہو گی۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کو بنظر محبت دیکھتی ہے اور گمراہی پر نگونسار نہیں بلکہ تدبر میں اپنے دنوں کو بسر