خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 627 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 627

خطبات طاہر جلد ۹ 627 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۰ء پس ایک مثال کو لے کر پوری طرح اسلام پر چسپاں کرنا بھی ممکن نہیں دوسری مثال کو لے کر بھی اسلام پر پوری طرح چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ ان دونوں کے مابین ایک رستہ ہے اسے اختیار کرنا ہوگا۔ پس آج کے خطبے میں میں صرف یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تمام دنیا میں اگلی صدی کے آنے والے خطرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے احمدیوں کی نگران کمیٹیاں مقرر کر دی جائیں جو معاشرتی پہلو سے پیش آمدہ خطرات کی نشاندہی کریں اور موجودہ یا رائج الوقت معاشرے کے خدوخال کی جانچ پڑتال کریں اور جو غیر اسلامی رسمیں ہیں ان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف اس ملک میں جہاد شروع کریں اور جو اسلامی رسمیں ہیں ان کی تائید میں ہوا چلانے کے لئے جدوجہد کریں اور جہاں جہاں اسلام کی مقامی معاشروں ۔ معاشروں سے صلح ممکن ہے انہیں بڑی جرات کے سہ بڑی جرات کے ساتھ اور حوصلے کے ساتھ قبول کرنے پر آمادہ ہوں اور ان کے متعلق اعلان کریں کہ یہ جو طرز زندگی ہے، یہ ہرگز غیر اسلامی نہیں ہے۔ یہاں صلح ہو سکتی ہے اور وہاں صلح نہیں ہو سکتی۔ یہ تمام امور ہیں جن پر ہمیں لمبا عرصہ محنت کرنی ہوگی اور ہر ملک میں محنت کرنی ہوگی۔ اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے جماعت کو کہ ان نئی ذمہ داریوں کو بھی ادا کرنا ہوگا جو نئی صدی سے وابستہ ہوگئی ہیں اور وہ ایسے خطرات کی شکل میں آرہی ہیں جو خوشخبریوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ پس یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ خوشخبریاں ہی خوشخبریاں لیتے رہیں اور اس کے ساتھ آپ کو کوئی محنت نہ کرنی پڑے کوئی خطرات لاحق نہ ہوں ۔ گلاب کا پھول پھولوں کا سرتاج ہے اور اس کے ساتھ کانٹے لگے ہوتے ہیں نسبتاً کم درجے کے پھولوں کے ساتھ کانٹے نہیں بھی ہوتے مگر وہ چمن جس میں ہر قسم کے پھول ہوتے ہیں اس کا کانٹوں کے بغیر تصور نہیں ہو سکتا۔ پس ہر قسم کی خوشخبری کے ساتھ بھی کچھ کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ ان کانٹوں کو پہچاننا ضروری ہے ان سے بچنا ضروری ہے لیکن یہ خیال کر لینا بہر حال غلط ہے کہ آپ کو ایسی خوشخبریاں ملیں گی اس صدی میں جس کے ساتھ کوئی خطرات وابستہ نہ ہوں، کوئی خطرات لاحق نہ ہوں۔ ایک اور بہت بڑا خطرہ جس کا ہمیں مقابلہ کرنا ہوگا وہ نسل پرستی کا خطرہ ہے اس موضوع پر میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں یا اس سے آئندہ خطبے میں روشنی ڈالوں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ دو بڑے چیلنج ہیں جو یہ صدی ہمارے لئے لے کر آئی ہے ان کے متعلق ہمیں ہر پہلو سے تیار رہنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور خود روشنی عطا کرے کیونکہ یہ رستے خطرناک ہیں ۔ ان میں غلط فیصلے بھی ہو سکتے ہیں اور آج کے غلط فیصلے کل کے بہت بڑے خطرناک