خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد ۹ 537 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۹۰ء کی روحیں خدا کی طرف مائل ہو جاتی ہیں اور خدا سے تعلق پیدا کر لیتی ہیں اور اس دنیا میں ہی خدا کی طرف بار بار جھکنے سے ان کو لذت محسوس ہوتی ہے مرنے کے بعد کی زندگی میں یہی ان کی جنت بنے گی کیونکہ مرنے کے بعد خدا اور بندے کی روح کے درمیان سے پردے اٹھا دیئے جائیں گے اور جو چیز یہاں حسین دکھائی دے رہی تھی جب وہ پردے کم ہوں گے تو اور زیادہ حسین دکھائی دے گی اور یہی حقیقی جنت ہے جو مومن کی جنت ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس دنیا میں خدا سے راضی ہو گئے ہوں اور خدا ان سے راضی ہو گیا ہو، ان کو یہی خوشخبری دیتا ہے۔ لَا يَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: ۲۸ تا ۳) کہ اے وہ نفس مطمئنہ ! جو خدا سے راضی رہا اور جس سے خدا راضی ہو گیا فَادْخُلِي فِي عِبْدِی آج میرے عباد کی جنت میں داخل ہو جاؤ وَادْخُلِي جَنَّتِی ۔ میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔ پس حقیقی جنت وہی ہے جس کی بناء اس دنیا میں ڈالی جاتی ہے اور وہ محبت الہی کی جنت ہے۔ قیامت کے بعد کی زندگی میں جونئی روحانی زندگی ہوگی کیونکہ بندے کی روح اور خدا کی روح کے درمیان فاصلے نسبت کے لحاظ سے کم دکھائی دیں گے اور خدا کا حسن زیادہ شان کے ساتھ جلوہ گر ہو گا اس لئے خدا کے قرب کا کا جلوہ جلوہ ہی ہی ان روحوں کے لئے جنت بن جائے گا۔ وہ کس طرح طرح مستمثل ہوتی ہے کن شکلوں میں ڈھلتی ہے اس کے کچھ نظارے قرآن کریم نے پیش فرمائے ہیں لیکن وہ تمثیلات ہیں ۔ ایسی تمثیلات ہیں جن کو ہمیں سمجھانے کی خاطر پیش کیا گیا ہے ورنہ نہ تو اس قسم کے باغات ہیں جیسے ہم ہم باغات باغار دیکھتے ہیں، نہ ہی وہ واقعہ اس دودھ کی نہریں ہیں جسے ہم دودھ جانتے ہیں نہ ہی ویسا شہد وہاں بہتا ہوا دکھائی دے گا جیسا شہر ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں یہ نہ بتایا جاتا کہ جنت ایک ایسی چیز ہے جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا۔ پس یہ ساری باتیں جو ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں یا جن کا ذکر سنتے ہیں ان کو ہماری آنکھ نے اس دنیا میں دیکھا بھی ہوا ہے اور ہمارے کانوں نے ان کا ذکر سنا بھی ہے۔ پس یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ ایک طرف تو ہم دیکھ بھی رہے ہوں اور سن بھی رہے ہوں ، دوسری طرف ہمیں یہ بتایا جائے کبھی کسی آنکھ نے اس جنت کو نہیں دیکھا جو جنت خدا نے اپنے بندوں کے لئے محفوظ رکھی ہے اور کبھی کسی کان نے اس جنت کا ذکر نہیں سنا حالانکہ اس کا ذکر قرآن کریم میں ہم پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔