خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 536

خطبات طاہر جلد ۹ 536 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۹۰ء وہ دنیا کے مقاصد اور مطالب کو ہی پائے گا۔ پس آپ میں سے وہ خواہ نو جوان ہوں یا بوڑھے ہوں ، مرد ہوں یا عورتیں ہوں، جو ہجرت کر کے یہاں تشریف لائے ہیں ان کو میں مختصراً یہ بات یاد کراتا ہوں کہ آنے سے پہلے اگر نیت کچھ اور تھی بھی ۔ تب بھی اب اپنی نیتوں کو درست کر لیں اور دنیا سے دین کی طرف ہجرت کریں۔ یہ ہجرت زندگی کے ہر لمحے پر ہوسکتی ہے اور وہ ہر لمحہ زندگی کا ایک موڑ بن جاتا ہے جس میں انسان دنیا کی طرف سے رخ پھیر کردین کی طرف رخ اختیار کر لیتا ہے ۔ پس دعا کریں کہ آپ کو بھی زندگی کا کوئی ایسا ہی لمحہ نصیب ہو جو زندگی کا ایسا موڑ بن جائے جس میں آپ کا رخ دنیا سے ہٹ کر خدا کی طرف ہو جائے اور اگر یہ ہو جائے تو پھر آپ کی ہجرت دنیاوی لحاظ سے بھی کامیاب ہوگی اور دینی لحاظ سے بھی کامیاب ہوگی اور آپ کو زندگی کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ تو اس پہلو سے انصار کو بھی ، خدام کو بھی اور لجنات کو بھی اپنے ممبروں کو اور ممبرات کو یاد دلاتے رہنا چاہئے کہ ہمیں بالآخر لازماً خدا کی طرف ہجرت کرنا ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر بھی بہر حال ہم خدا ہی کی طرف لوٹیں گے۔ دو ہی صورتیں انسان کی زندگی پہ آسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کی طرف اس طرح لوٹے جس طرح ہنکا کر کسی چیز کو لے جایا جاتا ہے اور ایک اس طرح لوٹے کہ اس کا دل اچھلتا ہوا اپنے بدن سے آگے بڑھ کر خدا کی طرف بڑھ رہا ہو۔ اس کی روح پیش قدمی کرتی چلی جائے اور وہ اس طرح خدا کی طرف لپکے جس طرح ایک بھو کا بلبلاتا ہوا بچہ ماں کے دودھ کی طرف لپکتا ہے۔ ایسی واپسی حقیقی مومن کی واپسی ہے اور وہ لوگ جو اس دنیا میں خدا کی طرف ہجرت نہیں کرتے مرنے کے بعد قرآن کریم نے ان کا بعینہ یہی نقشہ کھینچا ہے کہ فرشتے ان کو ہنکا کر لے جائیں گے جس طرح جانوروں اور بھیڑ بکری کے ریوڑوں کو ہنکا کر لے جایا جاتا ہے ۔ وہ اپنی مرضی سے نہیں چلتے ان کو علم بھی نہیں ہوتا کہ کہاں جا رہے ہیں ۔ ہنکانے والے کتے بعض دفعہ ان کے لئے رکھے جاتے ہیں جو ان کو چاروں طرف سے ڈرا دھمکا کر ایک سمت میں چلنے پر مجبور کرتے ہوں، بعض دفعہ گھوڑ سوار سانٹے لے کر ان کے آگے پیچھے چلتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے مرنے کے بعد ان لوگوں کو جو مرنے سے پہلے خدا کی طرف نہیں گئے جہنم کی طرف لے جانے کا یہی نقشہ کھینچا ہے اور ایسے فرشتے جو شداد ہیں جو سختی کرنا جانتے ہیں ان کے سپردان لوگوں کو کیا جائے گا۔ دراصل جنت اور جہنم اسی دنیا میں بنتے ہیں جن