خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد ۹ 40 خطبه جمعه ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء صلى الله میں بھی اس قسم کا وہ واقعہ ہوا ہے جس کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ملے عليه کا دل ان نوروں کا اجتماع تھا جو اپنی ذات میں اتنے حیرت انگیز طور پر قوت کو مجتمع کرنے والے تھے کہ اسی قوت کے زور سے وہ بھڑک اٹھنے پر تیار ہو گئے تھے۔ اس وقت آسمان سے شعلہ نور آپ پر نازل ہوا۔ یہ تمثیل حضرت محمد مصطفی اللہ عليسة کی بیان ہوئی ہے اور اس کے مقابل پر حضرت موسیٰ ا علیہ علیہ ال السلام کی تمثیل ایک اور رنگ میں پیش ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَلَمَّا قَضَى مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِةٍ أَنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي أَنَسْتُ نَارًا لَعَلَى آتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ فَلَمَّا أَتْهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبْرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يَمُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ (القصص: ۳۰-۳۱ ) کہ جب موسیٰ نے اپنے خسر جن کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ حضرت شعیب تھے۔ ان سے اپنی مدت کا معاہدہ پورا کر لیا تو اپنے اہل کو لے کر وہ واپسی کے لئے روانہ ہوئے ۔ جب وہ طور کے قریب پہنچے تو انہوں نے طور پر ایک آگ کو روشن دیکھا۔ اس پر انہوں نے اپنے اہل سے کہا کہ ذرا یہاں ٹھہرو۔ مجھے ایک آگ دکھائی دے رہی ہے۔ ہو سکتا ہے میں وہاں سے کوئی روشنی کی خبر لاؤں۔ خبر سے مراد یہاں روشنی حاصل کرنا ہے۔ راستہ تلاش کرتے ہوئے ایک انسان جس طرح کسی دوسرے سے پوچھتا ہے کہ مجھے بتاؤ میں کون سارستہ اختیار کروں۔ تو یہاں آگ سے پہلا خیال آگ لینے کا نہیں بلکہ رستے کی تلاش کا سوال پیدا ہوا ہے۔ جو حضرت موسی کے ذہن میں اٹھا ہے۔ پھر فرمایا أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ یا ایک دہکتا ہوا کوئلہ، ایک آگ کی چنگاری لے آؤں ۔ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ تا کہ تم اس کو سینکو اور اس سے گرمی محسوس کرو ۔ معلوم ہوتا ہے ظاہری طور پر بھی سردیوں کا موسم تھا۔ اعر فَلَمَّا أَتْهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبْرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يَمُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعُلَمِينَ ) جب وہ قریب پہنچے تو اس مبارک وادی سے، اس درخت سے جہاں خدا کا نور جلوہ گر تھا۔ وہاں سے آپ کو یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ میں خدا ہوں ۔ یعنی جو نور تو نے دیکھا ہے وہ خدا کا نور ہے اور