خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 39
خطبات طاہر جلد ۹ 39 خطبه جمعه ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء صلى الله کرنے کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کے مطالعہ کی ضرورت ہے اور آپ کی حقیقی پیروی کی ضرورت ہے۔ ان معنوں میں آپ پر ایمان لانے کی ضرورت ہے کہ جس طرح آپ کی بشریت نور میں ڈھل گئی اسی رستے پر چلتے ہوئے انہی طرق یا ان رستوں کو اختیار کرتے ہوئے میں بھی رفتہ رفتہ اس نور سے حصہ پانے لگ جاؤں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم یہ کوشش کرو اور ہم یہ وعدے کرتے ہیں کہ ہم تمہیں وہ نور عطا کر دیں گے کیونکہ آنحضرت ﷺ کو بھی یہ نور خدا تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔ لیکن اس نور کے عطا کرنے کی شرط یہ ہے کہ نفس کے اندر ایک شعلہ نور پیدا ہو۔ اس کے بغیر یہ بیرونی نور جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ۔ سے نازل ہوتا ہے یہ عطا نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم ۔ ہوتا ۔ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے نور کی جو تفصیل بیان فرمائی اس کو اسی رنگ میں بیان فرمایا کہ آپ کے نفس کے اندر ایک نور تھا جو اتنا لطیف تھا کہ وہ خود بخود بھڑک اٹھنے کے لئے تیار بیٹھا تھا ۔ ایسی صورت میں جب آسمان سے شعلہ نور نازل ہوا تو نور علی نور بن گیا۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کو بھڑ کا دیا اور نور بنا دیا۔ فرمایا نور تھا پہلے ہی۔ نور علی نور ہوا ہے ایک نور پر ایک اور نور نازل ہوا ہے۔ صلى الله صلى الله پس اپنے نفوس کے اندر جب تک آپ کوئی شمعیں روشن نہیں کریں گے ۔ آسمان سے نور نہیں اترے اترے گا گا اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح آپ کا وجود اندرونی طور پر لطافت اختیار کرتے ہوئے نور بن چکا تھا اور بھڑک اٹھنے پر تیار تھا یعنی ایسا نور جو تمام دنیا میں روشنی پیدا کر دے۔ یہ جو مثال دی ہے قرآن کریم نے یہ اس طرح کی مثال ہے جیسے Super Nova کا ذکر سائنس میں ملتا ہے کہ بعض جو Stars ہیں ان کے اندر Radiation کی ایسی Concentration ہو جاتی ہے۔ اس ریڈیائی قوت کا غیر معمولی طور پر ایسا اجتماع ہوجاتا ہے کہ وہ پھر اچانک بھڑک اٹھتے ہیں اور سارے جو کو وہ اتنی حیرت انگیز روشنی سے بھر دیتے ہیں کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کروڑوں اور اربوں سال تک وہ روشنی مسلسل پھیلتی چلی جاتی ہے اور دوسروں کو روشن کرتی چلی جاتی ہے ۔ یہ جواچانک روشنی کا بھڑک اٹھنا ہے سائنس دان بتاتے ہیں کہ اس میں ایسی قوت ہے کہ میں ارب سال پہلے جو روشنی بعض ستاروں میں بھڑ کی تھی وہ آج تک جو میں موجود ہے۔ اب نہیں ارب سال تک ، آپ اندازہ کریں کہ وہ کتنا بڑا فاصلہ ہے اور کتنا عظیم تصور ہے جس کو ہمارے دماغ حقیقت میں پکڑ بھی نہیں سکتے ۔ تو روحانی دنیا