خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 428
خطبات طاہر جلد ۹ 428 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء ہے اُس طرح اپنے نو جوانوں کو دُعا کی اہمیت بتائیں اور اُن سے کہیں کہ اپنی روزمرہ ضرورتوں کے وقت اپنے لئے دعا کیا کریں۔ ہر کام میں مصروف ہوتے وقت دعا کیا کریں اُس سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی سہولتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر کام اس طرح چلتے ہیں کہ پتا ہی نہیں لگتا کہ کون چلا رہا ہے۔ خودرو ہو جاتے ہیں، بہتے چلے جاتے ہیں اور اسی طرح پھر ہم نے دیکھا ہے کہ جلسے کے بعد جلسہ آ کے گزر جاتا ہے شروع میں بڑی مشکل پڑتی ہے، بڑے بوج بوجھ اُٹھائے ہوئے ہوتے ہیں لیکن جب جلسہ چلتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے فرشتے وہ بوجھ اُٹھا کر اس حد سے گزر چکے ہیں اور پتا ہی نہیں لگا کہ کب وقت آیا اور کب گزر گیا۔ تو یہ دعاؤں کی برکت ہے جو ہماری نسلوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تربیت یافتہ نسلوں سے سیکھی ہے، ورثہ میں پائی ہے یہ برکت اور یہ ورثہ میں پانی ہے یہ برکت سلیقہ سیکھا ہے۔ اس سے اب اگلی نسلوں میں ہمیں جاری کرنا ہے اور نسلاً بعد نسل اس کی حفاظت کرنی ہے اور دُعا کریں اور دُعا کروائیں اور دُعا کے سلیقے سکھائیں اور اُس کے نیک نمونے قائم کریں اور پھر اس کے پھل کھائیں جو دُعا کے ذریعے مانگ کر چیز ملتی ہے اُس کا مزہ ہی اور ہے۔ روزمرہ تو خدا کے اتنے احسانات ہیں کہ اُن میں ڈوبے ہوئے آپ کو یہ پتا ہی نہیں رہتا کہ کون کون سے احسانات ہیں۔ گننا شروع کریں تو ایک دن کے احسانات مہینوں میں بھی نہیں گن سکتے ہیں لیکن دُعا کے وقت ایک ذاتی رابطہ پیدا ہو جاتا ہے احسان پانے کا اور جو اُس کا لطف ہے وہ عمومی احسان سے ایک الگ لطف ہے۔ روزمرہ روٹی کھا رہے لوگ، روٹیاں تقسیم ہو رہی ہیں مگر کسی کو بلا کر کہا جائے کہ میاں یہ تمہارے لئے روٹی رکھی اُس روٹی کا بالکل اور مزہ ہے۔ اس لئے دُعا کے ذریعے وہ لذت حاصل کریں اور اپنے رب سے وہ تعلق پیدا کریں جس کے نتیجے میں آپ کو بھی خدا کی طرف سے تھوڑا تھوڑا مائدہ ملنا شروع ہو جائے ۔ کچھ رزق براہ راست آپ کے حصے میں آئے اور اس کی وجہ سے پھر مستقل ہماری آئندہ نسلوں کی حفاظت ہو جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔